| خوف خدا عزوجل |
ہے ۔(۲)جو آنکھیں اپنے رب عزوجل کا جلوہ دیکھنا چاہتی ہیں ،میں نہیں چاہتا کہ وہ کسی اور چیز کو بھی دیکھیں ، لہٰذا میں نے مناسب خیال کیا کہ نابینا کی طرح ہو جاؤں اور جب قیامت میں میری آنکھ کھلے تو فوراً میری نظر اپنے رب تعالیٰ کا دیدار کرے ۔''اس کے بعد آپ ساٹھ برس حیات ظاہری سے متصف رہے لیکن کسی نے انہیں آنکھ کھولتے نہیں دیکھا۔
( رسالہ ''قفل مدینہ'' از امیر اہلِ سنت مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی )
(8) ( اُن کے پہلو لرز رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ )
سرور ِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ،''اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جن کے پہلو اس کے خوف کی وجہ سے لرزتے رہتے ہیں ، ان کی آنکھ سے گرنے والے ہر آنسو سے ایک فرشتہ پیدا ہوتا ہے ،جو کھڑے ہوکر اپنے رب عزوجل کی پاکی بیان کرنا شروع کر دیتا ہے ۔''
(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ،ج۱،ص۵۲۱، رقم الحدیث ۹۱۴ )
(9) (تم کیوں روتے ہو؟۔۔۔۔۔۔ )
نبی محترم،شفیع معظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُناجبرائیل عليہ السلام کو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں تو آپ نے دریافت فرمایا،''اے جبرائیلں! تم کیوں روتے ہو حالانکہ تم بلندترین مقام پر فائز ہو؟''انہوں نے عرض کی،''میں کیوں نہ روؤں کہ میں رونے کا زیادہ حق دار ہوں کہ کہیں میں اللہ تعالیٰ کے علم میں اپنے موجودہ حال کے علاوہ کسی دوسرے حال میں نہ ہوں اور میں نہیں جانتا کہ کہیں ابلیس کی طرح مجھ پر ابتلاء نہ آجائے کہ وہ بھی فرشتوں میں رہتا تھا اور میں نہیں جانتا کہ مجھ پرکہیں ہاروت وماروت