حضرت سَیِّدُنا یحیی عليہ السلام جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو(خوفِ خدا سے ) اس قدر روتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی آپ کے ساتھ رونے لگتے حتّٰی کہ آپ کے والدِ محترم حضرت سَیِّدُنا زکریا ں بھی آپ کو دیکھ کر رونے لگتے یہاں تک کہ بے ہوش ہو جاتے۔ آپ اسی طرح مسلسل آنسو بہاتے رہتے یہاں تک کہ اِن مسلسل بہنے والے آنسوؤں کے سبب آپ کے رخسارِ مبارک پر زخم ہوگئے۔ یہ دیکھ کر آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کے رخساروں پر اونی پٹیاں چپٹا دیں ۔ اس کے باوجود جب آپ دوبارہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو پھر رونا شروع کر دیتے، جس کے نتیجے میں وہ روئی کی پٹیاں بھیگ جاتیں ۔جب آپ کی والدہ انہیں خشک کرنے کے لئے نچوڑتیں اور آپ اپنے آنسوؤں کے پانی کو اپنی ماں کے بازو پر گرتا ہوا دیکھتے تو بارگاہِ الٰہی عزوجل میں اس طرح عرض کرتے ،''اے اللہ عزوجل! یہ میرے آنسو ہیں ، یہ میری ماں ہے اور میں تیرا بندہ ہوں جبکہ تو سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے ۔''