Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
45 - 161
(6)         (مسلسل بہنے والے آنسو۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا یحیی عليہ السلام جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو(خوفِ خدا سے ) اس قدر روتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی آپ کے ساتھ رونے لگتے حتّٰی کہ آپ کے والدِ محترم حضرت سَیِّدُنا زکریا ں بھی آپ کو دیکھ کر رونے لگتے یہاں تک کہ بے ہوش ہو جاتے۔ آپ اسی طرح مسلسل آنسو بہاتے رہتے یہاں تک کہ اِن مسلسل بہنے والے آنسوؤں کے سبب آپ کے رخسارِ مبارک پر زخم ہوگئے۔ یہ دیکھ کر آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کے رخساروں پر اونی پٹیاں چپٹا دیں ۔ اس کے باوجود جب آپ دوبارہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو پھر رونا شروع کر دیتے، جس کے نتیجے میں وہ روئی کی پٹیاں بھیگ جاتیں ۔جب آپ کی والدہ انہیں خشک کرنے کے لئے نچوڑتیں اور آپ اپنے آنسوؤں کے پانی کو اپنی ماں کے بازو پر گرتا ہوا دیکھتے تو بارگاہِ الٰہی عزوجل  میں اس طرح عرض کرتے ،''اے اللہ عزوجل! یہ میرے آنسو ہیں ، یہ میری ماں ہے اور میں تیرا بندہ ہوں جبکہ تو سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے ۔''
( احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۵)
(7)     (کسی نے آنکھ کھولتے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا شعیب عليہ السلام خوفِ خدا عزوجل سے اتنا روتے تھے کہ مسلسل رونے کی وجہ سے آپ کی اکثر بینائی رخصت ہو گئی ۔ لوگوں نے عرض کی،''یانبی اللہ عليہ السلام آپ اتنا کیوں روئے کہ آپ کی اکثر بینائی جاتی رہی ؟'' ارشاد فرمایا،''دو باتوں کے سبب(۱)کہیں میری نظر ایسی چیز پر نہ جا پڑے جسے دیکھنے سے شریعت نے منع فرمایا
Flag Counter