(4) (ایک میل تک آواز سنائی دیتی۔۔۔۔۔۔ )
حضرت سَیِّدُناابودرداء عزوجل روایت کرتے ہیں کہ'' حضرت سَیِّدُنا ابراھیم خلیل اللہ عليہ السلام جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا عزوجل کے سبب اس قدر گریہ وزاری فرماتے کہ ایک میل کے فاصلے سے ان کے سینے میں ہونے والے گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی۔''
( احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۴)
(5) (تیس ہزار لوگ انتقال کر گئے۔۔۔۔۔۔ )
ایک دن حضرت سَیِّدُنا داؤد ں لوگوں کو نصیحت کرنے اور خوف ِخدا دلانے کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کے بیان میں اس وقت چالیس ہزار لوگ موجودتھے ۔جن پر آپ کے پُر اثر بیان کی وجہ سے ایسی رقت طاری ہوئی کہ تیس ہزار لوگ خوفِ خدا عزوجل کی تاب نہ لاسکے اور انتقال کر گئے ۔
(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۲۴)