کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ''ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے بارے میں کوئی بات بتائيے۔'' تو آپ روپڑیں اور فرمایا،'' ایک رات رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے ،''مجھے رخصت دو کہ میں رب تعالیٰ کی عبادت کرلوں۔''تو میں نے عرض کی،''مجھے آپ کا رب تعالیٰ کے قریب ہونا اپنی خواہش سے زیادہ عزیز ہے ۔''تو آپ ا گھر کے ایک کونے میں کھڑے ہوگئے اور رونے لگے ۔ پھر وضو کر کے قرآن پاک پڑھنا شروع کیا تو دوبارہ رونا شروع کر دیا یہاں تک کہ آپ کی چشمان مبارک سے نکلنے والے آنسو زمین تک جا پہنچے ۔ اتنے میں حضرت بلال رضي الله تعلي عنه حاضر ہوئے تو آپ کو روتے دیکھ کر عرض کی،''یارسول اللہ ا! میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ کیوں رو رہے ہیں حالانکہ آپ کے سبب تو اگلوں اور پچھلوں کے گناہ بخشے جاتے ہیں ؟'' تو ارشاد فرمایا،''کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟''اور مجھے رونے سے کون روک سکتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے ،''