Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
42 - 161
گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)          (قبر کی تیاری کرو۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سیدنا بَرَاء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سرکارِ مدینہ ا کے ہمراہ ایک جنازہ میں شریک تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم قبر کے کنارے بیٹھے اور اتنا روئے کہ آپ کی چشمانِ اقدس سے نکلنے والے آنسوؤں سے مٹی نم ہوگئی ۔ پھر فرمایا ،''اے بھائیو! اس قبر کے لئے تیاری کرو۔''
(سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد والبکاء ، ج۴، ص۴۶۶،رقم الحدیث ۴۱۹۵)
(2)         (بادلوں میں کہیں عذاب نہ ہو۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تعالٰی عَنہا سے مروی ہے کہ جب رسولِ اکرم ، شفیع معظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تیز آندھی کو ملاحظہ فرماتے اورجب بادل آسمان پر چھا جاتے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چہرہ  اقدس کا رنگ متغیر ہوجاتا اور آپ کبھی حجرہ سے باہر تشریف لے جاتے اور کبھی واپس آجاتے ، پھر جب بارش ہو جاتی تو یہ کیفیت ختم ہوجاتی ۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا ،'' اے عائشہ رَضِیَ اللہ تعالٰی عَنہا! مجھے یہ خوف ہوا کہ کہیں یہ بادل' اللہ عزوجل کا عذاب نہ ہو جو میری امت پر بھیجاگیا ہو۔''
(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ،ج۱،ص۵۴۶،رقم الحدیث ۹۹۴ )
(3)     (جہنم کی آگ آنسو ہی بجھا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ )
    حضرتِ سَیِّدُنا عطارضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے ساتھ حضرت ابن عمراورحضرت عبید بن عمروص ایک مرتبہ اُم المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تعالٰی عَنہا
Flag Counter