Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
39 - 161
دشوار ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

    ہمارے ہاتھ جن کی مدد سے ہم کپڑے پہننے ، کھانا کھانے ، لکھنے ،ڈرائیونگ اوردیگر کام سرانجام دیتے ہیں ،اگر ان پر ذرا سی خراش آ جائے یا پھنسی وغیرہ ہو جائے تو ہمیں کتنی دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔(علی ھذا القیاس)

    بلکہ ہمارا پورا وجود ہی انتہائی نازک اور حساس ہے کہ اگر اس کا درجہ حرارت معمولی سا بڑھ جائے ،یاہمارے سر میں ہلکا سے درد ہوجائے تو ہم بسترسے لگ جاتے ہیں ،اسی طرح ہماری رگوں میں دوڑنے والے خون کی رفتارمیں ذرا سی کمی وبیشی ہوجائے تو بلڈ پریشر کے اس مرض کے نتیجے میں ہمارے روز مرہ کے معمولات بے حد متأثر ہوتے ہیں ،اور اگر خدانخواستہ کوئی ہمارے سینے میں خنجر یا پستول کی گولیاں اتار دے.. یا..بالفرض کوئی گاڑی ہمیں کچل ڈالے تو تکلیف کی شدت سے پہلے تو ہم بے ہوش ہوجائیں اور پھر غالباً ہماری لاش ہی دیکھنے کو ملے ۔

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رکھئے کہ یہ تودنیا میں لاحق ہونے والی تکالیف کی چندمثالیں تھیں ، لیکن ذرا تصور کیجئے کہ اگر ہمیں جہنم میں ڈال دیا گیا تو ہمارا یہ نرم ونازک بدن اس کے ہولناک عذابات کوکس طرح برداشت کر پائے گا ؟حالانکہ یہ تو اتنا کمزور ہے کہ کسی تکلیف کی شدت جب اپنی انتہاء کو پہنچتی ہے تو یہ بے ہوش ہوجاتا ہے یا پھر بے حس وحرکت ہوجاتا ہے ۔ جبکہ جہنم میں پہنچنے والی تکالیف کی شدت کے سبب انسان پر نہ توبے ہوشی طاری ہوگی اور نہ ہی اسے موت آئے گی ۔ آہ! وہ وقت کتنی بے بسی کا ہوگاجس کا تصورکرتے ہی ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔کیا یہ رونے کا مقام نہیں ؟ کیا اب بھی ہماری آنکھوں سے اللہ عزوجل کے خوف کے سبب آنسو نہیں نکلیں گے ؟کیا اب بھی