پیارے اسلامی بھائیو!
ان عذابات کو پیش ِنظر رکھتے ہوئے اپنے بدن کی کمزوری اور ناتوانی پر ذرا غور فرمائیے کہ ہمارے جسم کا ہر ایک عضو کس قدر نازک ہے ۔ مثلاً۔۔۔۔۔۔
ہماری آنکھیں جو عام حالات میں ہمیں کافی دور تک کے مناظر دکھا دیتی ہیں ،اگر ہم کبھی دھوپ سے اٹھ کر اچانک کسی کمرے میں چلے جائیں تویہ اتنابے بس ہوجاتی ہيں کہ بالکل قریب کی چیز بھی نہیں دیکھ پاتیں ۔ اسی طرح کبھی ریت وغیرہ کاہلکا سا ذرہ ان میں پڑ جائے تو اس کے سبب ہونے والی چبھن ہمارے پورے وجود کو تڑپا کر رکھ دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے کان اس قدر نازک ہیں کہ اگر ان میں چھوٹا سا کیڑا گھس جائے 'یا' ان میں ورم وغیرہ ہوجائے تو اس کی تکلیف سے ہماری راتوں کی نیند برباد ہوجاتی ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔
ہماری زبان جس کی مدد سے ہم مختلف قسم کی چٹ پٹی اور دیگر اشیاء اپنے معدے میں اتارتے ہیں ،اور مسلسل بول بول کر بعض اوقات دوسروں کو کوفت تک میں مبتلاء کر دیتے ہیں ، اگر کبھی انجانے میں ہم کوئی انتہائی گرم چیز کھا بیٹھیں تو اس کی حرارت ناقابل ِ برداشت ہونے کی وجہ سے اس زبان پر چھالے پڑ جاتے ہیں ،چنانچہ ہم کئی دن تک نہ تو کوئی ٹھوس اور مرچ دار چیز کھاپاتے ہیں اور نہ ہی کسی سے اطمینان سے گفتگو کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے پاؤں جن کے ذریعے ہم روزانہ طویل فاصلہ طے کر تے ہیں ،اگر یہ بھولے سے کسی گرم انگارے پر جاپڑیں یا کسی وجہ سے زخمی ہوجائیں تو ہمارا چلنا پھرنا