حضرت سَیِّدُنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رحمتِ کونین انے ارشاد فرمایا،''اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اسے آگ سے نکالو جس نے مجھے کبھی یاد کیا ہو یا کسی مقام میں میرا خوف کیا ہو۔''
(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ،ج۱،ص۴۷۰،رقم الحدیث ۷۴۰)
سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ایک ایسے نوجوان کے پاس تشریف لائے جو قریب المرگ تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے پوچھا،''تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو؟'' اس نے عرض کی ،''یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم! مجھے معافی کی امید بھی ہے اور میں گناہوں کے وجہ سے اللہ تعالیٰ سے ڈرتا بھی ہوں ۔''تو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا،''ایسی حالت میں جب بھی یہ دو باتیں جمع ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی امید کے مطابق اسے عطا کرتا ہے اور اس چیز سے محفوظ رکھتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے ۔''
حضرت سَیِّدُنا کعب االاحبار رضي اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ'' اللہ تعالیٰ نے سبز موتی کا