خوفِ الٰہی اعمال کی قبولیت کا ایک سبب ہے ، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے ،
اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِیۡنَ ﴿۲۷﴾
تر جمہ کنزالایمان : اللہ اسی سے قبو ل کرتا ہے ،جسے ڈر ہے ۔ ( پ ۶،المائد ہ : ۲۷ )
(بارگاہ ِ الٰہی میں مقرب.....)
اپنے رب عزوجل سے ڈرنے والے سعادت مند اس کی بارگاہ میں مقرب قرار پاتے ہیں ، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ،
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ
تر جمہ کنزالایمان :بے شک اللہ کے یہاں ، تم میں زیا دہ عز ت والا وہ ،جو تم میں زیا دہ پرہیز گا ر ہے ۔(پ ۲۶، الحجر ات : ۱۳ )
(اُخروی کامیابی کا سامان.....)
اللہ تعالیٰ کا خوف دنیا وآخرت میں کامیابی کا سامان ہے ،جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے ،
الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَکَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾لَہُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ
تر جمہ کنزالایمان : وہ جو ایمان لائے اور وہ پر ہیز گا ری کرتے ہیں ، انہیں خوشخبری ہے، دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔( پ۱۱، یونس : ۶۳، ۶۴)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا،''
وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَخْشَ اللہَ