Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
24 - 161
    (3) اپنی کمزوری وناتوانی کو سامنے رکھ کر جہنم کے عذابات پر غور وتفکر کرنا۔

    (4)خوف ِ خدا عزوجل کے حوالے سے اسلاف کے حالات کا مطالعہ کرنا۔

    (5)خود احتسابی کی عادت اپنانے کی کوشش کرتے ہوئے فکرِ مدینہ کرنا (اس کی تفصیل آگے آرہی ہے )۔    

    (6)ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا جو اس صفتِ عظیمہ سے متصف ہوں۔
(اِن اُمور کی تفصیل )
(1)رب تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرنا اوراس نعمت کے حصول کی دعا کرنا :

                جس طرح طویل دنیاوی سفر پر تنہاروانہ ہوتے وقت عموماًہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ کم سے کم سامان اپنے ساتھ رکھیں تاکہ ہمارا سفر قدرے آرام سے گزرے اور ہمیں زیادہ پریشانی کا سامنا نہ کر نا پڑے ،بالکل اسی طرح سفرِ آخرت کو کامیابی سے طے کرنے کی خواہش رکھنے والے کو چاہیے کہ روانگی سے قبل گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتارنے کی کوشش کرے کہ کہیں یہ بوجھ اسے تھکا کر کامیابی کی منزل پر پہنچنے سے محروم نہ کر دے ۔اور اس بوجھ سے چھٹکارے کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار عزوجل کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے کیونکہ سچی توبہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتی ہے جیسے کبھی کئے ہی نہ تھے ۔ جیسا کہ سرور ِ عالم ، نور مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا، ''
اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّاذَنْبَ لَہٗ۔
یعنی گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے کہ گویا اس نے کبھی کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔''
(کنزالعمال، ج۴، ص۹۲، رقم الحدیث ۱۰۲۴۵)
Flag Counter