| خوف خدا عزوجل |
سے باہر کہیں جارہا تھا کہ راستے میں تو نے ایک کانٹا دیکھا اور لوگوں کو اذیت سے محفوظ رکھنے کی نیت سے وہ کانٹا راستے سے ہٹادیا تھا ، میں نے تیرا وہی عمل قبول کیا اور اس کی وجہ سے تیری بخشش کر دی۔''
(حکایات الصالحین،ص ۵۱)
(6)ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا جو اس صفتِ عظیمہ سے متصف ہوں : اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا بھی انسان کے دل میں خوف ِ الٰہی بیدار کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔ پیارے آقا ، مکی مدنی سلطان ،رحمت عالمیان صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا،''اچھے اور برے مصاحب کی مثال ، مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ، کستوری اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی ، جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔''
(صحیح المسلم،،ص۱۱۱۶،رقم الحدیث ۲۶۲۸)
واقعی! ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ،مثال کے طور پر اگر آپ کو کبھی کسی میت والے گھر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو وہاں کی فضا پر چھائی ہوئی اداسی دیکھ کر کچھ دیر کے لئے آپ بھی غمگین ہوجائیں گے اور اگر کسی شادی پر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو خوشیوں بھرا ماحول آپ کو بھی کچھ دیر کے لئے مسرور کر دے گا ۔بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص غفلت کا شکارہو کر گناہوں پر دلیرہوجانے والے لوگوں کی صحبت میں بیٹھے گا ،تو غالب گمان ہے کہ وہ بھی بہت جلد انہی کی مانندہوجائے گا اور اگر کوئی شخص ایسے لوگوں کی صحبت اختیار