Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
153 - 161
فرمایا،''اے بیٹے ! اللہ تعالیٰ سے ایسا خوف رکھو کہ تمہیں گمان ہونے لگے کہ اگر تم تمام اہلِ زمین کی نیکیاں اس کی بارگاہ میں پیش کرو تو وہ انہیں قبول نہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے ایسی امید رکھو کہ تم سمجھو کہ اگر سب اہلِ زمین کی برائیاں لے کر اس کی بارگاہ میں جاؤگے تو بھی تمہیں بخش دے گا ۔''
 (احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۲۰۲)
 (ایک شخص کے سواء۔۔۔۔۔۔ )
    امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رضي اللہ تعالي عنہ نے فرمایا،''اگر آواز دی جائے کہ ایک شخص کے سوا سب جہنم میں چلے جائیں تو مجھے امید ہے کہ وہ (جہنم میں نہ جانے والا)شخص میں ہوں گا اور اگر اعلان کیا جائے کہ ایک آدمی کے علاوہ سب جنت میں داخل ہوجائیں تو مجھے خوف ہے کہ کہیں وہ (جنت میں داخلے سے محروم رہ جانے والا)میں نہ ہوں ۔''
 (حلیۃ الاولیاء ، ذکر الصحابۃ من المہاجرین ، ج ۱، ص ۸۵)
 (راستے کا کانٹا ہٹانے نے بخشش کرا دی۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا منصور بن زکیرضي اللہ تعالي عنہ جب مرض الموت میں مبتلاء ہوئے تو رونے لگے اور اتنا بے قرار ہوئے ،جیسے کوئی ماں اپنے بچے کی موت پر بے قرار ہوتی ہے ۔ لوگوں نے پوچھا ، ''حضرت ! آپ کیوں رو رہے ہیں؟جبکہ آپ نے تو بڑی پاکیزہ اور پرہیز گاری کی زندگی بسر کی ہے اور اَسّی برس اپنے رب تعالیٰ کی عبادت وبندگی کی ہے۔''

    آپ نے فرمایا ،''میں اپنے گناہوں کی نحوست پر آنسو بہا رہا ہوں، جن کی وجہ سے میں اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں ۔''یہ فرما کر آپ دوبارہ رونے لگے ۔
Flag Counter