Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
151 - 161
نے اس کے لکھنے میں تجھ پر ظلم تو نہیں کیا؟ '' وہ شخص جواب دے گا ،''یا رب عزوجل! نہیں '' پھر ربُّ العالمین دریافت فرمائے گا ،''کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے ؟ـــ'' وہ عرض کریگا ''اے میرے رب عزوجل!نہیں ۔''اور وہ سمجھے گا کہ اب تو مجھے دوزخ میں جانا پڑے گا ۔ تب رب تعالیٰ فرمائے گا ،''اے بندے ! تیری ایک نیکی میرے پاس ہے ، میں تجھ پر ظلم نہیں کروں گا ۔''پھر ایک رقعہ لایا جائے گا جس پر
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ
لکھا ہوگا۔ اسے دیکھ کر وہ شخص حیران ہوکرپوچھے گا ،''یارب عزوجل! یہ رقعہ ان بڑے بڑے دفاتر ِ گناہ کے کیونکر ہم پلہ ہو سکتا ہے ؟ـــ''اللہ تعالیٰ فرمائے گا ،''میں تجھ پر ظلم نہیں کروں گا۔'' پھر گناہوں پر مشتمل ان تمام اعمال ناموں کو ایک پلڑے میں رکھا جائے گا جبکہ اس رقعہ کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تورقعے والاپلڑا ان تمام پر بھاری ہوجائے گا ۔
 (کیمیائے سعادت،ج۲، باب فضیلۃ الرجاء،ص۸۱۵)
 (محبت کا عجب انداز ۔۔۔۔۔۔ )
    مروی ہے کہ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد ِ مسعود میں کسی جنگ میں قید ہوجانے والوں میں ایک بچہ بھی شامل تھا ۔سخت گرمی کے دن تھے کہ قیدیوں کے ایک خیمے سے کسی عورت کی نگاہ اس بچے پر پڑی اور وہ دوڑتی ہوئی آئی ۔ خیمے کے دوسرے لوگ بھی اس کے پیچھے دوڑے ۔ اس عورت نے دوڑکر اس بچے کو اٹھا لیا اوراپنے سینے سے لگا کر اپنا سایہ اس پر ڈالا تاکہ وہ دھوپ سے محفوظ رہ سکے ۔ لوگ عورت کی محبت کا یہ عجیب انداز دیکھ کر حیران رہ گئے اور رونے لگے ۔ جب یہ واقعہ حضور اکرم  صلي اللہ تعالی عليہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا
Flag Counter