سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ ،''میں جنتیوں میں سے آخری داخل ہونے والے جنتی اور دوزخیوں میں سے نکلنے والے آخری شخص کو جانتا ہوں کہ وہ شخص ہوگا جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائیگا کہ ''اس پر اسکے چھوٹے گناہ پیش کرو اور بڑے گناہ چھپائے رکھو۔ '' چنانچہ اسکے چھوٹے گناہ پیش کئے جائینگے اور کہا جائے گا کہ'' تو نے فلاں دن فلاں گناہ اور فلاں دن فلاں گناہ کئے ؟ ''وہ انکار کرنے کی ہمت نہ کرسکے گا اور کہے گا ،''ہاں!'' اس وقت وہ اپنے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بھی پیش کر ديئے جائیں ۔ جب اسے بتایا جائے گا کہ تیرے لئے ہر گناہ کے بدلے میں نیکی ہے ،تو وہ کہے گا کہ ''میں نے تو اور بڑے بڑے گناہ بھی تو کئے ہیں وہ یہاں نظر نہیں آرہے ؟ ''حضرت ابو ذررضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آقا صلي اللہ تعالی عليہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلي اللہ تعالی عليہ وسلم کی مسکراہٹ کے باعث داڑھیں چمک گئيں۔''