Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
150 - 161
فرما دے گا ۔
 (الدرالمنثور ، ج۷، ص۲۰۶)
 (بڑے گناہ نظر نہیں آرہے؟ ۔۔۔۔۔۔ )
    سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایاکہ ،''میں جنتیوں میں سے آخری داخل ہونے والے جنتی اور دوزخیوں میں سے نکلنے والے آخری شخص کو جانتا ہوں کہ وہ شخص ہوگا جسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور کہا جائیگا کہ ''اس پر اسکے چھوٹے  گناہ پیش کرو اور بڑے گناہ چھپائے رکھو۔ '' چنانچہ اسکے چھوٹے گناہ پیش کئے جائینگے اور کہا جائے گا کہ'' تو نے فلاں دن فلاں گناہ اور فلاں دن فلاں گناہ کئے ؟ ''وہ انکار کرنے کی ہمت نہ کرسکے گا اور کہے گا ،''ہاں!'' اس وقت وہ اپنے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بھی پیش کر ديئے جائیں ۔ جب اسے بتایا جائے گا کہ تیرے لئے ہر گناہ کے بدلے میں نیکی ہے ،تو وہ کہے گا کہ ''میں نے تو اور بڑے بڑے گناہ بھی تو کئے ہیں وہ یہاں نظر نہیں آرہے ؟ ''حضرت ابو ذررضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آقا صلي اللہ تعالی عليہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلي اللہ تعالی عليہ وسلم کی مسکراہٹ کے باعث داڑھیں چمک گئيں۔''
 (مشکوۃ المصابیح ، باب الحوض والشفاعۃ ، ص۲۱۶، رقم الحدیث ۵۵۸۷ )
 (میں تجھ پر ظلم نہیں کروں گا ۔۔۔۔۔۔ )
    سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،''قیامت کے دن میری امت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا اور اس کے ننانونے اعمال نامے ساتھ ہوں گے ،جن میں سے ہر ایک حد ِ نگاہ تک طویل ہوگا ۔ اس شخص کو اس کے سارے گناہ بتائے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا ، ''کیا تم ان میں سے کسی تقصیر کا انکار کر سکتے ہو؟کہیں فرشتوں
Flag Counter