نورِ مجسم،شاہ بنی آدم صلي اللہ تعالی عليہ وسلم نے فرمایا کہ ،''اللہ تعالی کی سو رحمتیں ہیں ،ننانوے رحمتیں ،اس نے قیامت کے لئے رکھی ہیں اور دنیا میں فقط ایک رحمت ظاہر فرمائی ہے ۔ ساری مخلوق کے دل اسی ایک رحمت کے باعث رحیم ہیں ۔ ماں کی شفقت و محبت اپنے بچے پر اور جانوروں کی اپنے بچے پر مامتا ، اسی رحمت کے باعث ہے۔ قیامت کے دن ان ننانوے رحمتوں کے ساتھ اس ایک رحمت کو جمع کر کے مخلوق پر تقسیم کیا جائے گا، اور ہر رحمت آسمان و زمین کے طبقات کے برابر ہوگی ۔ اور اس روز سوائے ازلی بد بخت کے اور کوئی تباہ نہ ہوگا ۔ ''
(کنز العمال ، ج ۴، صفحہ ۱۱۸ )
(جنتیوں کی صفّوں میں ۔۔۔۔۔۔ )
حضرت جابر بن عبداللہ رضي اللہ تعالي عنہ روایت کرتے ہیں کہ رحمتِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،''مجھے جبرائیل ں نے بتایا،''یارسول اللہ صلي اللہ تعالی عليہ وسلم !اللہ تعالیٰ بروزِقیامت مجھ سے دریافت فرمائے گا۔۔۔۔۔۔،''اے جبرائیل عليه السلام! کیا بات ہے، میں فلاں بن فلاں کو جہنمیوں کی صفّوں میں دیکھ رہا ہوں؟'' تو میں عرض کروں گا ،''یاالٰہی عزوجل! ہم نے اس کے نامہ اعمال میں کوئی ایسی نیکی نہ پائی جو آج کے دن اس کے کام آسکے ۔'' اللہ عزوجل فرمائے گا ،''اس نے دنیا میں مجھے ''یاحنّان، یامنّان''کہہ کر پکارا تھا ، ۔۔۔۔۔۔کیا میرے علاوہ بھی کوئی حنّان ومنّان ہے ؟''یہ کہنے کے بعد اس شخص کو جنتیوں کی صفّوں میں شامل