(ہنسنے والا اعرابی ۔۔۔۔۔۔ )
ایک اعرابی نے نبی اکرم صلي اللہ تعالی عليہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کی کہ'' قیامت کے دن بندوں کے اعمال کا حساب کون کریگا ؟'' آپ نے ارشاد فرمایا،''اللہ عزوجل!''اس نے عرض کی ، ''کیا وہ خود ہی حساب فرمائے گا ؟'' جواب دیا ''ہاں ۔'' یہ سنکر وہ اعرابی ہنسنے لگا۔ آقا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وجہ دریافت کی تو عرض کرنے لگا کہ ،'' میں اس لئے ہنس رہا ہوں کہ'' کریم جب غالب ہوتا ہے تو وہ بندے کی تقصیر معاف فرما دیتا ہے اور حساب آسانی سے لیتاہے ۔''رحمتِ دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ''اعرابی نے سچ کہا ، رب کریم سے زیادہ کوئی کریم نہیں ہے ، یہ اعرابی بہت بڑا فقیہ اور دانش مند ہے ۔ ''
(احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ج ۴، ص ۱۸۳)
(بروزِ قیامت رب تعالیٰ کی رحمت ۔۔۔۔۔۔ )
سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ،'' اللہ تعالی قیامت کے دن اس قدر ، بخشش فرمائے گا جس کا کسی کے دل میں تصور بھی نہ ہوگا ، یہاں تک کہ ابلیس بھی اس کا