| خوف خدا عزوجل |
بنانے کے لئے خوف خدا اور رحمتِ الٰہی کی امیدکے دو پروں کی ضرورت ہے ۔رحمتِ خداوندی کس طرح اپنے امیدوارکو آغوش میں لیتی ہے ،اس کا اندازہ درجِ ذیل روایات سے لگائيے۔۔۔۔۔۔
(میں رحمتِ خداوندی کا امیدوار ہوں ۔۔۔۔۔۔ )
ایک مرتبہ سرورِ کائنات صلي اللہ تعالی عليہ وسلم نے کسی شخص کو نزع کے عالم میں دیکھ کر اس سے دریافت فرمایاکہ ''تو خود کو کس حال میں پاتا ہے ؟''اس نے عرض کی کہ،''میں گناہوں سے ڈرتا ہوں اور رحمتِ خداوندی کا امیدوار بھی ہوں ۔'' تب حضوراکرم صلي اللہ تعالی عليہ وسلم نے فرمایا ،''ایسے وقت میں جس شخص کے دل میں یہ دو باتیں جمع ہوتی ہیں ، رب تعالیٰ اسے ڈر سے نجات دیتا ہے اور اس کی امید بَر لاتا ہے ۔ ''
( شعب الایمان، جلد۲، ص۴ ، رقم الحدیث ۱۰۰۱)
(زمین بھر رحمت ۔۔۔۔۔۔ )
حدیث ِ قدسی ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ'' اگر میرا بندہ آسمان بھر کے گناہ کربیٹھے ، پھر مجھ سے بخشش چاہے اور امید ِمغفرت رکھے تو میں اسکو بخش دوں گا اور اگر بندہ زمین بھر کے گناہ کرے تو بھی میں اسکے واسطے زمین بھر رحمت رکھتا ہوں ۔ ''
(کیمیائے سعادت،ج۲، باب فضیلۃ الرجاء،ص۸۱۳)
(رحمت ، غضب پر سبقت لے گئی ۔۔۔۔۔۔ )
رحمتِ عالمیان صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ''رب تعالی کا فرمان عظمت نشان ہے کہ'' میری رحمت ، میرے غضب پر سبقت لے گئی ۔ ''