| خوف خدا عزوجل |
اور کہنے لگی،''جانتے ہو کہ میرا چہرہ اتنا روشن کیوں ہے ؟'' میں نے کہا،'' نہیں ۔''وہ کہنے لگی کہ ،''تمہیں یاد ہوگا کہ ایک مرتبہ سخت سردیوں کی رات تھی ،تم نے اٹھ کروضو کیا ،اس کے بعد نماز ادا کرنا شروع کی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے تمہاری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے ، اسی وقت رب عزوجل کی طرف مجھے حکم دیا گیا کہ فردوس بریں سے سینہ زمین پر اتر کر تمہارے اِن آنسوؤں کو اپنے دامن میں سمیٹ لوں ۔پھر میں نے تیرے آنسوؤں کا ایک قطرہ اپنے چہرے پر مل لیا تھا ،میرے چہرے کی یہ چمک تمہارے انہی آنسوؤں کی وجہ سے ہے ۔''
(حکایات الصالحین،ص ۳۹)
(ہنستے ہوئے جنت میں ۔۔۔۔۔۔)
کسی بزرگ کا قول ہے ،''جو ہنستے ہوئے گناہ کریگا تو رب تعالیٰ اسے اس حال میں جہنم میں ڈالے گا کہ وہ رو رہا ہو گااور جو روتے ہوئے نیکی کرے ،تو اللہ تعالیٰ اسے اس حال میں جنت میں داخل فرمائے گا کہ وہ ہنس رہا ہو گا۔
(المنبہات علی الاستعداد لیوم المعاد،ص۵ )
میرے اشک کاش! گرتے رہیں ٹپ ٹپ تیرے خوف سے ! یاخدا عزوجل یا الٰہی عزوجل
پیارے اسلامی بھائیو!
لیکن یہ ذہن میں رہے کہ جہاں خوفِ خدا عزوجل سفرآخرت کی کامیابی کے لئے اہمیت رکھتا ہے وہیں رحمتِ الٰہی کی برسات کی امیدرکھنا بھی نویدِ کامرانی ہے ۔بلکہ یوں سمجھئے کہ انسان گویا ایک ایسا پرندہ ہے جسے سفرِ آخرت کامیاب