Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
145 - 161
شراب خوری میں مشہور تھا۔ بزرگ نے دوبارہ کہا،''یاد کرو! کیا تم نے کبھی اس میں کوئی بھلائی کی بات دیکھی ؟'' تو اس نے عرض کی،''جی ہاں! تین باتیں ہیں ،(پہلی): یہ کہ جب صبح کے وقت اس کا نشہ اترتا تو یہ اپنے کپڑے تبدیل کرتا اور وضو کر کے صبح کی نماز جماعت سے پڑھتا اور پھر سے فسق وفجور میں کھو جاتا، (دوسری): یہ کہ یہ ہمیشہ اپنے گھر میں ایک یا دو یتیم بچوں کو رکھتا اور اپنے بچوں سے بڑھ کر ان کا خیال رکھتا تھا ، (تیسری) : جب رات گئے وہ نشے سے کچھ دیر کے لئے ہوش میں آتا تو رونے لگتا اور کہا کرتا،''اے میرے رب! تونے مجھ خبیث کو جہنم کے کس کونے میں ڈالنے کا ارادہ فرمایا ہے؟'' یہ سن کر وہ بزرگ واپس ہو لئے کہ عُقدہ کھل چکا تھا ۔
 (مکاشفۃ القلوب ،ص۳۱۵)
 (حُور کے چہرے کا نور۔۔۔۔۔۔)
    حضرت سَیِّدُناابو سلیمان درّانی رضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں اپنی عبادت گاہ میں کھڑا اپنے وظائف مکمل کر رہا تھا کہ مجھ پر نیند کا غلبہ طاری ہوا چنانچہ میں بیٹھ گیا اور بیٹھے بیٹھے میری آنکھ لگ گئی ۔ میں نے خواب میں ایک نہایت ہی خوبصورت حور کو دیکھا، جس کے رخساروں سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں ۔ میں اس حسن وجمال کو دیکھ کر دنگ رہ گیا ، اتنے میں اس نے مجھے اپنے پاؤں سے ہلکی سی ٹھوکر لگائی اور کہنے لگی ،''بڑے افسوس کی بات ہے ! میں جنت میں تیرے لئے بنی سنوری بیٹھی ہوں اور تم سورہے ہو؟'' یہ سن کر میں نے اسی وقت نذر مان لی کہ اب کبھی نہیں سوؤں گا۔

     میری یہ حالت دیکھ کر حور مسکرا دی جس سے میرا سارا کمرہ نور سے جگمگا اٹھااور میں بڑی حیرانی سے اس پھیلے ہوئے نور کو دیکھنے لگا۔ اس نے میری حیرت کو بھانپ لیا
Flag Counter