| خوف خدا عزوجل |
ایک مرتبہ سرور ِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو حاضرین میں سے ایک شخص رو پڑا ۔ یہ دیکھ کر آپ انے فرمایا،''اگر آج کی اس محفل میں تم میں سے ہر ایک پر پہاڑکے برابر بھی گناہ ہوتے تو اس شخص کی آہ وبکاء کے صدقے معاف کر دئیے جاتے ، کیونکہ ملائکہ بھی رو رو کر دعا کر رہے ہیں ، ''اے اللہ عزوجل! گریہ وزاری کرنے والوں کی شفاعت نہ رونے والوں کے حق میں قبول فرما۔''
(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ،ج۱،ص۴۹۴،رقم الحدیث ۸۱۰، )
(خوفِ خدا عزوجل سے رونے والا۔۔۔۔۔۔)
حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رضي اللہ تعالي عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی،
اَفَمِنْ ہٰذَا الْحَدِیۡثِ تَعْجَبُوۡنَ ﴿ۙ۵۹﴾وَ تَضْحَکُوۡنَ وَلَا تَبْکُوۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾
تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو ، اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ۔(ترجمہ کنزالایمان ،پ۲۷،النجم۵۹،۶۰)
تو اصحابِ صُفَّہ رَضِیَ اللہ تعالٰی عَنہم اس قدر روئے کہ ان کے رخسار آنسوؤں سے تر ہو گئے ۔ انہیں روتا دیکھ کر رسول اکرم صلي اللہ تعالی عليہ وسلم بھی رونے لگے ۔آپ صلي اللہ تعالی عليہ وسلم کے بہتے ہوئے آنسو دیکھ کر وہ اور بھی زیادہ رونے لگے ۔ پھر آپ صلي اللہ تعالی عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا،''وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے ڈر سے رویا ہو ۔''(شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللہ تعالیٰ ،ج۱،ص۴۸۹،رقم الحدیث ۷۹۸)
(دونوں رونے لگے۔۔۔۔۔۔)
حضرتِ سَیِّدُنا زکریا عليہ السلام کے بیٹے حضرت سَیِّدُنایحیی عليہ السلام ایک مرتبہ کہیں