سکا۔۔۔۔۔۔، دل کو بغض،حسد، تکبر، بدگمانی، شماتت، ناجائز لالچ وغصہ وغیرہ سے خالی رکھنے کا ارشاد ہوا لیکن آہ! میں اپنے دل کو ان غلاظتوں سے نہ بچا سکا ۔۔۔۔۔۔۔
آہ صد آہ ! یہ دونوں حکم توڑنے کے بعدمیں کس منہ سے اس قہّار وجبّارعزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے اعمال ِ زندگی کا حساب دوں گا؟۔۔۔۔۔۔اورپھر ایسی خطر ناک صورت حال کہ خود میرے اعضائے جسمانی مثلاً ہاتھ ، پاؤں، آنکھ ، کان ، زبان وغیرہ میرے خلاف گواہی دینے کے لئے بالکل تیار ہیں۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف اپنی مختصر سی زندگی میں نیک اعمال اختیار کرنے والوں کو ملنے والے انعامات دیکھ کر اپنے کرتوتوں پرشدید افسوس ہو رہا ہے ، کہ وہ اطاعت گزار بندے تو سیدھے ہاتھ میں نامہ اعمال لے کر شاداں وفرحاں جنت کی طرف بڑھے چلے جارہے ہیں لیکن نامعلوم میرا انجام کیا ہو گا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے جہنم میں جانے کا حکم سناکر الٹے ہاتھ میں اعمال نامہ تھما دیا جائے ، اور سارے عزیز واقارب کی نظروں کے سامنے مجھے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے، ہائے میری ہلاکت!ہائے میری رسوائی۔۔۔۔۔۔ (والعیاذ باللہ)
یہاں پہنچ کراپنی آنکھیں کھول دیجئے اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر یوں کہے کہ ''گھبراؤ مت !ابھی یہ وقت نہیں آیا ، ابھی میں تودنیامیں ہوں ۔۔۔۔۔۔، اس مختصر سی زندگی کو غنیمت جانو اوراپنی آخر ت سنوارنے کی کوشش میں مصروف ہوجاؤ۔''پھر پختہ ارادہ کیجئے کہ،''میں اپنے رب تعالیٰ کا اطاعت گزار بندہ بننے کے لئے اس کے احکامات پر ابھی اور اسی وقت عمل شروع کر دوں گا تاکہ کل میدانِ محشر میں مجھے پچھتانا نہ پڑے ۔''
پیارے اسلامی بھائیو! فکرمدینہ کے دوران ہو سکے تو رونے کی کوشش کیجئے