کہاں تک عمل کیا ؟
اب عمر بھر کی کمائی کا حساب دینے کا وقت آن پہنچا لیکن افسوس!مجھے اپنے دامن میں سوائے گناہوں کے کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔۔۔۔۔۔ ، شدت کی بے بسی کے عالم میں امداد طلب نگاہیں ادھر ادھردوڑا رہا ہوں لیکن کوئی سہارا دکھائی نہیں دے رہا۔۔۔۔۔۔ ، پچھتاوے کا احساس بھی ستا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لئے میرے پاس کچھ بھی تو نہیں۔۔۔۔۔۔ ۔کیونکہ شریعت نے جو کرنے کا حکم دیا وہ میں نے کیا نہیں مثلاًمجھے روزانہ پانچ وقت مسجد میں باجماعت نمازپڑھنے کا حکم ملا لیکن افسوس! میں نیند ، مصروفیت ، تھکن ،دوستوں کی محفل وغیرہ کے سبب ان کو قضاء کر دیتا رہا۔۔۔۔۔۔، مجھے رمضان المبارک کے مہینے میں روزہ رکھنے کا کہا گیا لیکن افسوس میں معمولی بیماری اور مختلف حیلوں بہانوں سے روزہ رکھنے کی سعادت سے محروم ہوتا رہا۔۔۔۔۔۔،مجھے مخصوص شرائط کے پورا ہونے پر زکوۃوحج کی ادائیگی کا حکم ہوا ،لیکن افسوس! میں مال کی محبت کی وجہ سے زکوۃ وحج کی ادائیگی سے کتراتا رہا ، ... اور... جس جس گناہ سے بچنے کی تلقین کی گئی تھی ، میں انہی گناہوں میں ملوث ہوتا رہا مثلاً مجھے کسی مسلمان کو بلااجازتِ شرعی تکلیف دینے سے روکا گیا لیکن آہ! میں مسلمانوں پر ظلم ڈھاتا رہا۔۔۔۔۔۔ ، والدین کو ستانے سے منع کیا گیا لیکن آہ! میں نے والدین کی نافرمانی کر کے ان کو ستانا اپنی عادت بنا لیاتھا۔۔۔۔۔۔ ، کسی نامحرم عورت کو بشہوت یا بلا شہوت دونوں صورتوں میں دیکھنے سے روکا گیا لیکن آہ! میں نے اپنی نگاہوں کی حفاظت نہ کی۔۔۔۔۔۔، جھوٹ،غیبت چغلی ،فحش کلامی اور گالم گلوچ سے اپنی زبان پاک رکھنے کا کہا گیا لیکن آہ! میں اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھ سکا ۔۔۔۔۔۔، مجھے غیبت ، فحش کلامی وغیرہ سننے سے روکا گیا لیکن میں اپنی سماعت پاکیزہ نہ رکھ