کاش ! میں نے زندگی میں نیکیاں کمائی ہوتیں ،افسوس! میں نے گناہوں سے پرہیز کیاہو تا ، آہ ! اب میرا کیا بنے گا ۔''
اس کے بعد آنکھیں کھول دیں اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر یہ کہے کہ'' ابھی میں زندہ ہوں ،ابھی میری سانسیں چل رہی ہیں ، ان حسرت آمیز لمحات کے آنے سے پہلے پہلے میں اپنی قبر کو جنت کا باغ بنانے کی جدوجہد میں لگ جاؤں گا ، خوب نیکیاں کروں گا ، گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کروں گا تاکہ کل مجھے پچھتانا نہ پڑے ۔ ''
(3)کبھی اس طرح تصور کریں کہ
''میں نے قبر میں ایک طویل عرصہ گزارنے کے بعد اربوں کھربوں مُردوں کی طرح وہاں سے نکل کر بارگاہ الٰہی عزوجلمیں حاضری کے لئے میدان محشر کی طرف بڑھنا شروع کردیا ہے۔ صرف مجھے ہی نہیں بلکہ ہر ایک کو پسینوں پر پسینے آرہے ہیں جس کی بدبو سے دماغ پھٹا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔، سورج نہایت کم فاصلے پر ہے اور آگ برسا رہا ہے لیکن اس کی تپش سے بچنے کے لئے کوئی سایہ بھی میسر نہیں ۔۔۔۔۔۔،گرمی اور پیاس سے برا حال ہے۔۔۔۔۔۔، ہجوم کی کثرت کی وجہ سے دھکے لگ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ اندرونی کیفیت یہ ہے کہ زندگی بھر کی جانے والی اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کا سوچ کر دل ڈوبا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔،ان کے نتیجے میں ملنے والی جہنم کی ہولناک سزاؤں کے تصور سے ہی کلیجہ کانپ رہا ہے۔۔۔۔۔۔،دل بھی بے چینی کا شکار ہے کہ یہ تووہی امتحان گاہ ہے جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ انسان اس وقت تک قدم نہ ہٹا سکے گا جب تک ان پانچ سوالات کے جوابات نہ دے لے(۱)تم نے زندگی کیسے بسر کی؟(۲)جوانی کس طرح گزاری ؟ (۳)مال کہاں سے کمایا ؟اور۔۔۔۔۔۔(۴)کہاں کہاں خرچ کیا ؟(۵)اپنے علم کے مطابق