Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
133 - 161
    جنازہ گاہ پہنچ کر میری نمازِ جنازہ ادا کی گئی ،اس کے بعدمیری چارپائی کا رخ قبروں کی جانب کر دیا گیا ،جہاں مجھے طویل عرصے کے لئے کسی تاریک قبر میں تنہا چھوڑ دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔، یہ وہی قبرستان ہے کہ جہاں دن کے اجالے میں تنہا آنے کے تصور ہی سے میرا کلیجہ کانپتا تھا۔ یہ وہی قبر ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ جنت کا ایک باغ ہے یا دوزخ کا ایک گڑھا ۔۔۔۔۔۔، اور یہ کہ قبر آخرت کی سب سے پہلی منزل ہے ، اگر صاحبِ قبر نے اس سے نجات پالی تو بعد (یعنی قیامت) کا معاملہ آسان ہے اور اگر اس سے نجات نہ پائی تو بعد کا معاملہ زیادہ سخت ہے ۔

    وہاں پہلے سے دفن مُردوں نے یہ کہہ کر میرے رنج و غم میں اضافہ کردیا کہ' 'اے دنیا سے آنے والے !کیا تو نے ہم سے نصیحت حاصل نہ کی ؟کیا تو نے نہ دیکھاکہ''ہمارے اعمال کیسے ختم ہوئے اور تجھے عمل کرنے کی مہلت ملی تھی،لیکن افسوس!کہ تو نے وقت ضائع کردیا۔ ''، قبرکی اس پکار نے مجھے دہشت ناک کردیا کہ ''اے(اپنی زندگی میں) زمین پر اترا کر چلنے والے !کیا تو نے مرنے والوں سے عبرت حاصل نہ کی ؟کیا تو نے نہ دیکھاکہ کس طرح تیرے رشتہ داروں کو لوگ اٹھا کر قبروں تک لے گئے؟'' ....یہ تو وہی جگہ ہے کہ جہاں دوخوف ناک شکلوں والے فرشتے سر سے پاؤں تک بال لٹکائے ،آنکھوں سے شعلے نکالتے ہوئے انتہائی سخت لہجے میں مجھ سے تین سوال کریں گے ،''
مَنْ رَّبُّکَ
 (تیرا رب کون ہے؟) '' اور''
مَادِیْنُکَ
 (تیرا دین کیا ہے؟) ''اس کے بعد کسی کی نورانی صورت دکھا کر پوچھیں گے ،''
مَاکُنْتَ تَقُوْلُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُل
 (تُو اس ہستی کے بارے میں کیا کہا کرتا تھا؟) '' ۔یہ سوچ کر میرا دل ڈوبا جارہا ہے کہ گناہوں کی نحوست کے سبب میری قبرکہیں دوزخ کا گڑھا نہ بنا دی جائے ۔ اے
Flag Counter