Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
132 - 161
میرے گھر والوں کو دلاسہ دے رہے ہیں ۔ان میں سے کسی نے آگے بڑھ کر میری بے نور آنکھیں بند کر دیں اور پاؤں کے دونوں انگوٹھے اوردونوں جبڑوں کو کپڑے کی پٹی سے باندھ دیا ۔پھر کچھ لوگ قبر کی تیاری کے لئے اور کچھ کفن و تختہ غسل لانے کے لئے روانہ ہو گئے ۔ غسل کا انتظام ہونے پر مجھے تختہ غسل پر لٹاکر غسل دیا گیا اورسفید کفن پہناکر آخری دیدار کے لئے گھر والوں کے سامنے لٹا دیا گیا۔ میرے چاہنے والوں نے آخری مرتبہ مجھے دیکھا کہ یہ چہرہ اب دنیا میں دوبارہ ہمیں دکھائی نہ دے گا۔پورے گھر کی فضا پر عجیب سوگواری چھائی ہوئی ہے، درودیوار پر اداسی طاری ہے ۔ 

    بالآخر! میری چارپائی کو کندھوں پر اٹھا لیا گیا ،اور میں نے ایک حسرت بھری نظر اپنے گھر پر ڈالی کہ یہ وہی گھر ہے جہاں میری پیدائش ہوئی ، میرا بچپن گزرا ، یہیں میں نے جوانی کی بہاریں دیکھیں ۔۔۔۔۔۔، اپنے کمرے کی طرف دیکھا جہاں اب کوئی دوسرا بسیرا کریگا ۔۔۔۔۔۔، اپنے استعمال کی چیزوں کی طرف دیکھا جنہیں اب کوئی اور استعمال کریگا ۔۔۔۔۔۔ ، اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پودوں کی جانب دیکھا جن کی نگہبانی اب کوئی دوسرا کریگا ۔لوگ میرا جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھائے جنازہ گاہ کی طرف بڑھنا شروع ہو گئے ۔ میں نے انتہائی حسرت کے ساتھ آخری مرتبہ اپنے ماں باپ ، بیوی بچوں ، بھائی بہنوں، دیگر رشتہ داروں، دوستوں اور محلے والوں کی طرف دیکھا ،ان گلیوں ، ان راستوں کو دیکھا جن سے گزر کر کبھی میں اپنے کام کاج یا اسکول وغیرہ کے لئے جایا کرتا تھا ۔
جنازہ آگے بڑھ کر کہہ رہا ہے اے جہاں والو! 

چلے آؤ میرے پیچھے تمہارا راہنما میں ہوں
Flag Counter