اس مقام پر پہنچ کر آنکھیں کھول کر اپنے آپ سے یوں مخاطب ہوں کہ ،''اے نادان ! تو کب تک اسی منحوس طرزِ زندگی کو اپنائے رکھے گا؟۔۔۔۔۔۔ کیا روزانہ یونہی تیرے نامہ اعمال میں گناہوں کی تعداد بڑھتی رہے گی؟۔۔۔۔۔۔ کیا تجھے نیکیوں کی بالکل حاجت نہیں؟۔۔۔۔۔۔کیا تجھ میں اتنی ہمت وطاقت ہے کہ دوزخ کے عذابات برداشت کرسکے؟۔۔۔۔۔۔کیا تو جنت سے محرومی کا دکھ برداشت کر پائے گا؟۔۔۔۔۔۔ یاد رکھ اگراب بھی توخواب ِ غفلت سے بیدار نہ ہوا تو موت کے جھٹکے بالآخرتجھے جھنجھوڑ کر اٹھا دیں گے۔لیکن افسوس !اس وقت بہت دیر ہوچکی ہوگی ، پچھتانے کے سوا تو کچھ نہ کر سکے گا۔ابھی تو زندہ ہے ، اس لئے اس وقت کو غنیمت جان اور سنبھل جا اور اپنی اس مختصر زندگی کو خدائے احکم الحاکمین ل کی اطاعت اور اس کے حبیب نبی کریم صلي الله تعالي عليه وسلم کی سنتوں کی اتباع میں بسر کر لے ۔ ''
(2) اورکبھی اس طرح تصور کیجئے ،کہ
'' میری موت کا وقت آن پہنچا اور مجھ پر غشی طاری ہو چکی ہے، رشتہ دار وغیرہ بے بسی کے عالم میں مجھے موت کے منہ میں جاتا ہوا دیکھ رہے ہیں ۔نزع کی ناقابل ِ بیان تکالیف کا سامنا ہے ، زبان کی قوتِ گویائی رخصت ہوچکی ،مجھے سخت پیاس محسوس ہو رہی ہے۔ اسی اثناء میں کسی نے سرہانے سورہ یٰسین شریف کی تلاوت شروع کر دی ،رشتہ داروں کی صورتیں مدہم ہوتی نظر آرہی ہیں۔ اب گلے سے خرخراہٹ کی آوازیں آنے لگیں اورروح نے جسم کا ساتھ چھوڑدیا ۔
میری موت واقع ہوجانے کے بعدعزیز و اقارب پر گریہ طاری ہوگیا ۔ بیوی بچے ، بہن بھائی ، ماں باپ وغیرہ سبھی شدتِ غم سے آنسو بہا رہے ہیں اور کچھ لوگ