کی رنگ شدہ صاف ستھری دیوار پر پان کی پیک پھینک کر اسے داغدار کر ڈالاتھا۔۔۔۔۔۔، بس میں کنڈیکٹر وغیرہ سے خوامخواہ الجھ کر دو چار گالیاں بھی توبکی تھیں ۔۔۔۔۔۔، اور بس میں بیٹھی بے پردہ خواتین کومسلسل گھورابھی توتھا۔۔۔۔۔۔ ، پھر دورانِ ملازمت اپنی ڈیوٹی پوری کرنے کی بجائے ادھر ادھر کے باتوں میں وقت ضائع کر دیا۔۔۔۔۔۔، اپنے دفتری ساتھیوں کو ناگوارگزرنے کے یقین کے باجود ان کی اشیاء ان کی اجازت کے بغیر بھی استعمال کر ڈالیں ۔۔۔۔۔۔ ، ظہر کی نماز کا طویل وقت میں نے اپنے دوستوں سے'' گپ شپ ''کرتے ہوئے گزار دیا ، اسی طرح عصر ومغرب کی نمازیں بھی میں نے دیگر مصروفیات کی نذر کر دیں۔۔۔۔۔۔ ،واپسی پر رش کی بناء پر دوسروں کو دھکے دیتے ہوئے گھر واپسی کے لئے بس میں سوار ہوگیااوربس اسٹاپ سے گھر آتے ہوئے کوئی غریب مجھ سے انجانے میں ٹکرا گیا تھا تو میں نے اس کا قصور نہ ہونے کے باوجود اسے گریبان سے پکڑ کر پِیٹ ڈالا تھا۔۔۔۔۔۔، گھر پہنچ کر میں نے ''شدید تھکاوٹ'' کی وجہ سے عشاء کی نماز بھی نہ پڑھی۔۔۔۔۔۔،اوررات کا کھانا کھانے کے بعد ''فریشFresh))'' ہونے کے لئے آوارہ دوستوں کی محفل میں جا بیٹھا ،فحش کلامی ، گالی گلوچ ، تاش کا کھیل اس محفل کی'' نمایاں خصوصیات'' تھیں ، اس دوران کسی کی بیٹی ، کسی کی بہن کے متعلق معلومات کا تبادلہ بھی ہم تمام دوستوں کا'' پسندیدہ مشغلہ'' تھا ۔۔۔۔۔۔،جب رات گئے گھر لوٹاتوسب گھر والے سو چکے تھے ،لہٰذا میں ''ذہنی سکون کے حصول کے لئے ''کیبل پرفلم دیکھنے میں مشغول ہوگیا جس میں سیکس اپیل(Sex Appeal) مناظر کی کثرت تھی۔۔۔۔۔۔، یہاں تک کہ نیند سے آنکھیں بند ہونے لگیں، اور میں سونے کے لئے بستر پر چلا گیا۔۔۔۔۔۔، یوں میں نے کل کا سارا وقت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں گزار دیا ۔۔۔۔۔۔۔