Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
129 - 161
جگہ جہاں پر مکمل خاموشی ہو،آنکھیں بند کر کے سر جھکائے کم از کم بارہ منٹ فکر ِ مدینہ کرنے کی عادت بنائیں ، اور پھر مدنی انعامات کا رسالہ پر کریں (جس کی تفصیل آگے آرہی ہے)۔اس کے طریقہ کار کی وضاحت کے لئے فکر مدینہ کی چند مثالیں توجہ سے ملاحظہ فرمائیں ،

(1)کبھی تواس طرح اپنے روز مرہ کے معمولات کا محاسبہ کیجئے کہ 

    ''کل صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد سے اب تک میں اپنی زندگی کے کتنے گھنٹے گزار چکا ہوں؟۔۔۔۔۔۔ جس انداز سے میں نے یہ وقت گزرا،اس دوران جو افعال مجھ سے سرزد ہوئے ' کیا زندگی بسر کرنے کا میرا یہ انداز ' اللہ عزوجل اور اس کے رسول مقبول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ ہے...یا... ناپسندیدہ ؟۔۔۔۔۔۔ افسوس! میرا طرزِ زندگی تو ناپسندیدہ ہی شمار ہوگا کیونکہ ایامِ گزشتہ کی طرح میں نے سب سے پہلا کام تویہ کیاتھا کہ نیند کو عزیز رکھتے ہوئے نمازِ فجر قضا کر دی ۔۔۔۔۔۔، پھر دن چڑھے بیدار ہونے کے بعد سرکار ِدوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی پیاری اور نورانی سنتِ مبارکہ ایک مٹھی داڑھی شریف رکھنے کو ترک کردینے کا سلسلہ قائم رکھتے ہوئے اسے مونڈھ یا کاٹ کر (معاذ اللہ ) گندی نالی تک میں بہا دینے سے دریغ نہیں کیا۔۔۔۔۔۔ ،پھر کپڑے وغیرہ تبدیل کرنے کے دوران ٹیپ ریکاڈر یا کیبل وغیرہ پر گانے سننے کا بھی سلسلہ رہا ۔۔۔۔۔۔،نامحرم عورتوں مثلاً بھابھی وغیرہ سے چھیڑ چھاڑ بھی جاری رہی۔۔۔۔۔۔، ناشتے میں تاخیر کی وجہ سے والدہ کے سامنے گستاخانہ اندازِ گفتگو اختیار کر کے ان کا دل بھی تو دُکھایاتھا۔۔۔۔۔۔،ابا جان نے کوئی کام کہا تو حسب ِ معمول انہیں ٹَکَّا سا جواب دے دیاتھا۔۔۔۔۔۔، پھر اپنے دفتر جانے کے لئے جو لباس میں نے پہن رکھا تھا وہ بھی تو خلاف ِ سنت تھا۔۔۔۔۔۔، جب گھر سے روانہ ہوا تو چلتے چلتے اپنے پڑوسیوں