Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
127 - 161
    محترم اسلامی بھائیو!یہ تمام واقعات ان نفوس ِقدسیہ کے تھے ، جن میں بعض وہ ہیں جو مرتبہ بوت پر فائز ہیں اور بعض وہ ہیں جن کے سروں پر اللہ عزوجل نے اپنی ولایت کا تاج رکھا۔یہ وہی پاکیزہ لوگ ہیں جن کا ذکر کرتے ہی ہماری زبان پر بے اختیار 'صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم..یا.. علیہ السلام ..یا ..رضی اللہ تعالیٰ عنہ ..یا.. رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ..یا مدظلہ العالی ۔۔۔۔۔۔جیسے الفاظ جاری ہوجاتے ہیں اور ہماری نگاہیں فرطِ ادب سے جھک جاتی ہیں اوردل تعظیم کی خاطر فرشِ راہ بن جاتا ہے ۔مقامِ غور ہے کہ جب ان بزرگ وبرتر ہستیوں کے خوف خدا عزوجل کا یہ عالم ہے تو ہم جیسے پاپی وگناہ گاروں کو رب تعالیٰ لکی بے نیازی ، ناراضگی ، گرفت اور اس کے عذاب سے کتنا ڈرنا چاہے اس کا اندازہ کوئی بھی ذی فہم بآسانی لگا سکتا ہے ۔
 (4)خود احتسابی کی عادت اپنانے کی کوشش کرتے ہوئے'' فکرِ مدینہ'' کرنا:

                ذکرکردہ دیگر امور اپنانے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کا محاسبہ کرنے کی عادت اپنالینے سے بھی خوف ِ خدا عزوجل کے حصول کی منزل پر پہنچنا قدرے آسان ہو جاتا ہے ،اور اس عادت کو اپنانے کے لئے روزانہ فکر ِ مدینہ کرنے کی ترکیب بنالینا بے حد مفید ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ عزوجل 

    فکرِ مدینہ کا آسان سامطلب یہ ہے کہ،'' انسان اُخروی اعتبار سے اپنے معمولاتِ زندگی کا محاسبہ کرے ،پھر جو کام اس کی آخرت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہوں،انہیں درست کرنے کی کوشش میں لگ جائے اور جو امور اُخروی اعتبار سے نفع بخش نظر آئیں ،ان میں بہتری کے لئے اقدامات کرے ۔''فکرِ مدینہ کی برکت سے
Flag Counter