محترم اسلامی بھائیو!یہ تمام واقعات ان نفوس ِقدسیہ کے تھے ، جن میں بعض وہ ہیں جو مرتبہ بوت پر فائز ہیں اور بعض وہ ہیں جن کے سروں پر اللہ عزوجل نے اپنی ولایت کا تاج رکھا۔یہ وہی پاکیزہ لوگ ہیں جن کا ذکر کرتے ہی ہماری زبان پر بے اختیار 'صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم..یا.. علیہ السلام ..یا ..رضی اللہ تعالیٰ عنہ ..یا.. رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ..یا مدظلہ العالی ۔۔۔۔۔۔جیسے الفاظ جاری ہوجاتے ہیں اور ہماری نگاہیں فرطِ ادب سے جھک جاتی ہیں اوردل تعظیم کی خاطر فرشِ راہ بن جاتا ہے ۔مقامِ غور ہے کہ جب ان بزرگ وبرتر ہستیوں کے خوف خدا عزوجل کا یہ عالم ہے تو ہم جیسے پاپی وگناہ گاروں کو رب تعالیٰ لکی بے نیازی ، ناراضگی ، گرفت اور اس کے عذاب سے کتنا ڈرنا چاہے اس کا اندازہ کوئی بھی ذی فہم بآسانی لگا سکتا ہے ۔