| خوف خدا عزوجل |
قربانی ہوجانے کے بعد آپ محراب کے پیچھے واقع اپنے کمرے کی طرف روانہ ہوگئے اور کمرے میں پہنچنے کے بعد دیوار سے لپٹ کر زاروقطار رونے لگے۔ اتنے میں مؤذن اسلامی بھائی نے اذانِ عصر دی اورآپ نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں آ گئے ۔ نمازعصر ادا کرنے کے بعد(اپنے ہی کلام میں سے ) چند اشعار پڑھنے کا اشارہ فرمایا۔جب اسلامی بھائی نے ان اشعار کو پڑھنا شروع کیاتوآپ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔آپ کو روتا دیکھ کر وہاں پر موجود اسلامی بھائی بھی رونے لگے اورپوری فضاء سوگوار ہوگئی۔آپ مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ نمازِ مغرب کا وقت ہوگیا ۔ ان اشعار میں چند یہ ہیں ،۔۔۔۔۔۔
کاش !کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا
قبر وحشر کا سب غم ختم ہو گیا ہوتا
آہ! سلبِ ایماں کا خوف کھائے جاتا ہے
کاش! میری ماں نے ہی مجھ کو نہ جنا ہوتا
آکے نہ پھنسا ہوتا میں بطورِ انسان کاش!
کاش! میں مدینے کا اونٹ بن گیا ہوتا
اونٹ بن گیا ہوتااور عیدِ قرباں میں
کاش! دستِ آقااسے میں نحر ہوا ہوتا
کاش! میں مدینے کا کوئی دنبہ ہوتا یا
سینگ والا چتکبرا مینڈھا بن گیا ہوتا
آہ! کثرتِ عصیاں ، ہائے ! خوف دوزخ کا
کاش! اس جہاں کا میں نہ بشر بنا ہوتا(ارمغانِ مدینہ از امیر اہلِ سنت مدظلہ العالی ، ص ۱۲۷)