صحرائے مدینہ 'مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ۲۰۰۴ھ میں منعقد ہونے والے دعوت کے سنتوں بھرے سالانہ بین الاقوامی اجتماع میں ''اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر'' کے موضوع پر رقت انگیزبیان کرتے ہوئے شیخ ِطریقت ، امیرِ اہل ِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ نے جب ایمان کی حفاظت سے متعلق ترغیب دیتے ہوئے یہ واقعہ سنایا کہ
''حضرت عبداللہ مؤذن (رضي اللہ تعالي عنہ) فرماتے ہیں کہ میں طواف ِ کعبہ میں مشغول تھا کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ غلافِ کعبہ سے لپٹ کر ایک ہی دعا کی تکرار کر رہا ہے ، ''یااللہ عزوجل! مجھے دنیا سے مسلمان ہی رخصت کرنا ۔'' میں نے اس سے پوچھا کہ اس کے علاوہ کوئی اور دعا کیوں نہیں مانگتے ؟ اس نے کہا ،''میرے دوبھائی تھے ۔ میرا بڑا بھائی ایک عرصہ تک مسجد میں بلامعاوضہ اذان دیتا رہا ۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے قرآن پاک مانگا ، ہم نے اسے دیا تاکہ وہ اس سے برکتیں حاصل کرے ،مگر قرآن شریف ہاتھ میں لے کر وہ کہنے لگا ،''تم سب گواہ ہوجاؤ کہ میں قرآن کے تمام اعتقادات واحکامات سے بیزاری ظاہرکرتا ہوں اور نصرانی (یعنی عیسائی) مذہب اختیار کرتا ہوں ۔ چنانچہ وہ کفر کی حالت میں مر گیا۔ پھر دوسرے بھائی نے تیس برس تک مسجد میں فی سبیل اللہ عزوجل اذان دی ، مگر وہ بھی آخری وقت میں نصرانی ہو کر مرا ۔ لٰہذا! میں اپنے