امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ نے صفر المظفر ۱۴۲۴ھ میں مرکزی مجلس شورٰی ودیگر مجالس کے اراکین اور دوسرے اسلامی بھائیوں کے نام لکھے گئے ایک کھلے خط میں تحریر فرمایا،۔۔۔۔۔۔
محبت میں اپنی گمایاالٰہی عزوجل
نہ پاؤں میں اپنا پتا یا یاالٰہی عزوجل
تیرے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ
میں تھر تھر رہوں کانپتا یاالٰہی عزوجل
میرے دل سے دنیا کی الفت مٹا دے
بنا عاشقِ مصطفی ا یا الٰہی عزوجل (پھر لکھاکہ)
میں اپنی قیام گاہ کے مکتب میں مغموم وملول قلم سنبھالے آپ حضرات کی بارگاہوں میں تحریراً دستک دے رہا ہوں ۔ آج کل یہاں طوفانی ہوائیں چل رہی ہیں کہ جو دلوں کو خوفزدہ کر دیتی ہیں ، ہائے ہائے ! بڑھاپا آنکھیں پھاڑے پیچھا کئے چلا آرہا ہے اور موت کا پیغام سنا رہا ہے ، مگر نفس ِ امّارہ ہے کہ سر کشی میں بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ،کہیں ہوا کا کوئی تیز وتُند جھونکا میری زندگی کے چراغ کو گل نہ کر دے ، اے مولیٰ ل ! زندگی کا چراغ تو یقینا بجھ کر رہے گا ، میرے ایمان کی شمع سدا روشن رہے ، یا اللہ عزوحل! مجھے