سندھ باب الاسلام کی سطح پر۲،۳،۴ محرم الحرام ۱۴۲۵ھ کو ہونے والے سنتوں بھرے اجتماع میں ہونے والے بیان کے دوران شیخِ طریقت ، امیر اہل سنت، با نیئ دعوتِ اسلامی علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ نے توبہ کی شرائط کی وضاحت کرتے ہوئے وہاں موجود لاکھوں اسلامی بھائیوں اورٹیلی فون وغیرہ کے ذریعے سننے والی اسلامی بہنوں سے ارشاد فرمایا،''توبہ کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ جس کی حق تلفی کی ہو یا اذیت پہنچائی ہو اس سے معافی مانگی جائے ،(پھر بطور عاجزی ارشاد فرمایا)جس کے تعلقات جتنے زیادہ ہوتے ہیں اتنا ہی دوسروں کی دل آزاری ہوجانے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے ، اور میرے تعلقات یقینا آپ سب سے زیادہ ہیں ، لٰہذا میری درخواست ہے کہ میری طرف سے اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچی ہو ، کوئی حق تلف ہوگیا ہو، کبھی ڈانٹ دیا ہو، ملاقات نہ کرنے پر آپ ناراض ہوگئے ہوں ، تو ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے مجھے معاف کر دیجئے ، مجھے آپ سے نہیں اپنے رب تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے ، کہہ دیجئے ،''جا معاف کیا۔''
اور پھراس کا اقرار کرنے والوں کو دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا،''جس نے معاف کر دیا ، اللہ تعالیٰ اسے جلد مدینہ دکھائے ، جو کیسٹ میں سنیں ، یا انٹرنیٹ یا فون کے