Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
119 - 161
اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے یہ واقعہ مجھے سنایا ،پھر میں نے بھی انہیں اپنا واقعہ سنایا۔ میں برابر ان سے ملاقات کے لئے آتا رہا ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہوگیا اور یہیں ان کو دفن کر دیا گیا۔
 (کتاب التوابین ، ص۱۵۲ )
 (110)      ( پاؤں اندر داخل نہیں کیا۔۔۔۔۔۔ )
    بنی اسرائیل میں ایک بزرگ عرصہ دراز سے اپنے حجرہ میں مصروفِ عبادت تھے ۔ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے دروازے پر آن کھڑی ہوئی اور ان کی نگاہ اس عورت پر پڑی تو شیطان نے انہیں بہکا دیا ۔ چنانچہ آپ اس عورت کی طرف بڑھے لیکن جیسے ہی اپنا ایک پاؤں حجرہ سے باہر نکالا ،خوف ِ خدا عزوجل آپ پر غالب آیا اور کہنے لگے،''نہیں! مجھے یہ کام نہیں کرنا چاہے ۔''پھر آپ کے دل میں خیال آیا کہ'' یہ پاؤں جو دروازے سے باہر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے لئے نکلا ہے ، دوبارہ میرے حجرے میں داخل نہیں ہوگا ۔'' چنانچہ آپ وہیں بیٹھ گئے اور اس قدم کو کمرے کے اندر نہ لے گئے ، یہاں تک کہ وہ پاؤں گرمی اور سردی کے اثرات سے گل سڑ کر آپ کے جسم سے الگ ہو گیا ۔
 (کتاب التوابین ، ص۷۹ )
 (111) ( غوث ِ اعظم رضي اللہ تعالي عنہ کا خوف ِ خدا عزوجل۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت سَیِّدُنا شیخ سعدی شیرازی رضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہیں کہ ''مسجد الحرام میں کچھ لوگ کعبۃ اللہ شریف کے قریب عبادت میں مصروف تھے ۔ اچانک انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ دیوار ِ کعبہ سے لپٹ کر زاروقطار رو رہا ہے اور اس کے لبوں پر یہ دعا جاری ہے ،''اے اللہ عزوجل ! اگر میرے اعمال تیری بارگاہ کے لائق نہیں ہیں تو بروزِ قیامت مجھے
Flag Counter