دعائے مغفرت کی ، پھر رونے لگے۔ میں نے عرض کی،''یہ قبر کس کی ہے؟'' تو جواب دیا،''یہ قبر حمید بن ابراہیم (علیہ الرحمۃ)کی ہے جوپہلے ہمارے شہروں کے امیروں میں سے تھے اور دنیا کی محبت میں غرق تھے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں بچا لیا۔''اتنا کہنے کے بعد فرمایا،''مجھے پتہ چلا کہ یہ ایک دن اپنی مملکت کی وسعت اور دنیاوی مال ودولت کی کثرت سے بہت خوش تھے ،اسی دوران جب یہ سوئے تو خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، ان کے سرہانے آن کھڑا ہوا ۔ حمید نے اس شخص سے کتاب لے کر اسے کھولا تو اس میں جلی حروف سے لکھاتھا،''فنا ہوجانے والی کو باقی رہ جانے والی پر ترجیح نہ دے اور اپنی مملکت، حکومت، بادشاہت، خدام ، غلام اور لذات وخواہشات میں کھو کر غافل مت ہوجا ، بے شک جس میں تو مگن ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ، بظاہر جو تیری ملکیت ہے وہ حقیقتاً ہلاکت ہے ، جو فرح وسرور ہے وہ حقیقت میں لہو وغرور ہے ، جوآج ہے اس کا کل کچھ پتہ نہیں ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جلدی حاضر ہوجاؤ کیونکہ اس کا فرمان ہے ،