| خوف خدا عزوجل |
اس کی جلد کی رنگت کو تبدیل کر دیا اور نماز میں طویل قیام کی وجہ سے اس کا بدن کمزور ونحیف ہو گیا ، زیادہ رونے کے سبب اس کی آنکھیں خراب ہوگئیں اور سوت کاتنے کی وجہ سے اس کی انگلیوں میں زخم ہوگئے ۔ بالآخرایک دن اسی حالت میں اس کا انتقال ہوگیا ۔
(کتاب التوابین ، ص۱۵۱)
(108) (میرا کیا بنے گا؟۔۔۔۔۔۔ )
حضرت سَیِّدُنا ابراہیم بن ادھم رضي اللہ تعالي عنہ ایک مرتبہ غسل فرمانے کے لئے کسی حمام میں گئے ۔ حمام کے مالک نے آپ کو روکا اور کہنے لگا ،''اگر درہم نہیں دو گے تو اندر داخل نہیں ہونے دوں گا۔'' اس کی یہ بات سن کر آپ نے رونا شروع کر دیا ۔ وہ آپ کو روتا دیکھ کر پریشان ہوگیا اور عرض کرنے لگا ،''اگر آپ کے پاس درہم نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں ، آپ یونہی غسل فرما لیجئے۔ '' آپ نے فرمایاکہ ،''میں تمہارے روکنے کی وجہ سے نہیں رویا بلکہ مجھے تو اس بات نے رلا دیا کہ آج درہم نہ ہونے کی وجہ سے مجھے اس حمام میں جانے سے روک دیا گیا ہے جس میں نیک وبد سبھی نہاتے ہیں تو اگر کل نیکیاں نہ ہونے کے سبب مجھے اس جنت سے روک لیا گیا جو صرف نیکوں کا مقام ہے تو میرا کیا بنے گا ؟''
(رسالہ:میں سدھرنا چاہتا ہوں،ص ۱۶ )
(109) (فناء ہوجانے والی کو ترجیح نہ دو۔۔۔۔۔۔ )
حضرت سَیِّدُنا ابراھیم بن بشاررضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت سَیِّدُنا ابراھیم بن ادھم رضي اللہ تعالي عنہ کے ساتھ صحراء میں محوِ سفر تھا کہ اچانک ہمیں ایک قبرنظر آئی ۔ حضرت سَیِّدُنا ابراھیم بن ادھم رضي اللہ تعالي عنہ اس قبر پر تشریف لے گئے اور قبر والے کے لئے