پھر اس نے خادم کو آواز دی اور بالاخانے سے نیچے اتر گیا جبکہ وہ کنیز وہیں بیٹھی بیٹھی سو گئی۔
اس نے خواب میں دیکھا کہ ،''ایک شخص اس سے کہہ رہا ہے ،''آج تم اپنے حسن سے دوسروں کو آزمائش میں ڈالتی ہو اور اپنی اداؤں سے دوسروں کوغافل کر دیتی ہو۔اس دن جب صور پھونکا جائے گا جب قبریں شق ہوں گی اور لوگ ان سے باہر نکلیں گے اور انہیں اپنی کرنی کا پھل بھگتنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔تو کیا ہوگا؟ '' وہ کنیز گھبراہٹ کے عالم میں بیدار ہوئی اور پانی پی کر اپنا حلق تر کیا ۔ پھر پانی منگوا کر غسل کیا اور زرق برق لباس اور زیورات کی بجائے اونی کپڑے پہنے ، ایک لاٹھی ہاتھ میں تھامی اور ہشام کے دربار میں پہنچ گئی ۔جب ہشام اس کو نہ پہچان سکا تو اس نے کہا،''میں تمہاری وہی پسندیدہ کنیز ہوں جسے ایک ناصح کی نصیحت نے جھنجھوڑ ڈالا ہے اور میں تمہارے پاس اس لئے آئی ہوں کہ تم مجھ سے اپنی خواہش پوری کر چکے ہو لہذا ! اب مجھے غلامی سے آزاد کر دو۔''ہشام نے کہا،''میں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے تجھے آزاد کیا ، اب تم کہاں جانے کا ارادہ رکھتی ہو؟'' اس نے جواب دیا،''میں کعبۃ اللہ کی طرف جاؤں گی۔'' ہشام نے کہا ،''بہت خوب! اب تیری راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ۔''
کنیز وہاں سے مکہ شریف پہنچی اور وہیں مقیم ہوگئی۔وہ سوت کات کر گزر بسر کرتی اورجب شام ہوجاتی تو طواف کرتی،اس کے بعد حطیم میں داخل ہو کر عرض کرتی ، ''اے میرے رب عزوجل! تو ہی میرا سہارا ہے ، میری امیدوں کو مت توڑنا ، مجھے مقام امن عطا فرمانا اور اپنی رحمتیں مجھ پر چھماچھم برسانا۔''یہ کنیز اسی طرح شب وروز ریاضت وعبادت میں مصروف رہی حتی کہ اس محنت ومشقت اور دھوپ کی تمازت نے