اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کو کوفہ کی ایک بڑھیا کی نوجوان کنیز کے بارے میں بتایاگیاجو نہایت حسین ، ذہین ،ادب آشناہونے کے ساتھ ساتھ شعر وشاعری سے بھی دل چسپی رکھتی تھی ۔ اس نے یہ اوصاف سن کر حکم دیا کہ والی کوفہ کو خط لکھو کہ'' اس کنیز کو اس کی مالکن سے خرید کر میرے پاس بھیج دے ۔'' ایک خادم یہ خط لے کر کوفہ روانہ ہوگیا ۔ جب والی کو یہ حکم نامہ ملا تو اس نے بڑھیا کے پاس ایک آدمی بھیج کر اس کنیز کو دولاکھ درہم اورپانچ سو مثقال کھجوروں کی سالانہ پیداوار کے حامل کھجوروں کے باغ کے بدلے خرید لیا اور اسے ہشام کی خدمت میں روانہ کر دیا ۔ ہشام نے اس کے رہنے کے لئے الگ انتظام کیا جہاں زرق برق لباس ، قیمتی زیورات اور اعلیٰ بچھونے موجود تھے ۔ ایک دن وہ خوشبو سے مہکے ہوئے کمرے میں نہایت خوشگوار موڈ میں اس کے ساتھ باتوں میں مگن تھا کہ اسے چیخوں کی آواز سنائی دی ۔ اس نے آواز کی جانب نگاہیں دوڑائیں تو اسے ایک جنازہ نظر آیا جس کے پیچھے عورتیں چِلّا رہی تھیں اور ایک عورت کہہ رہی تھی ، ''میرے باپ کوکندھوں پر سوار کر کے مُردوں کے پاس لے جایا جارہا ہے ،عنقریب اسے ویران قبرستان میں تنہا دفن کر دیا جائے گا ۔ اے اباجان! کیا آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوا ہے جو اپنا جنازہ اٹھانے والوں سے کہتے ہیں، ''ذرا جلدی لے چلو۔'' ...یا...آپ کو ان لوگوں میں شامل کیا گیا ہے جو یہ کہتے ہیں،''مجھے واپس لے چلو!مجھے کہاں لے جارہے ہو؟''اس کی یہ بات سن کر ہشام کی آنکھیں بھر آئیں اور وہ اپنی لذت کو بھول کر کہنے لگا،''موت نصیحت کے لئے کافی ہے ۔'' اس کنیز نے کہا ،''اس عورت نے میرا دل چیر کر رکھ دیا ہے ۔'' ہشام نے کہا ،''ہاں ! کچھ ایسی ہی بات ہے ۔''