(103) (میرے پاس کوئی جواب نہ ہوگا۔۔۔۔۔۔ )
حضرت یحیی بن معاذرضي اللہ تعالي عنہ اپنی مناجات اس طرح شروع کرتے ،
''اے اللہ عزوجل! اگرچہ میں بہت گناہ گار ہوں پھر بھی تجھ سے مغفرت کی امید رکھتا ہوں کیونکہ میں سرتاپا معصیت اور تو معاف کرنے والا ہے ،۔۔۔۔۔۔اے اللہ عزوجل! تو نے فرعون کے دعویٰ ئ خدائی کے باوجود حضرت موسی وہارون (علیھما السلام) کو نرمی کا حکم دیا تھا ،لہذا! جب تواَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی ﴿۫ۖ۲۴﴾
(میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں۔النازعات:۲۴) ''کہنے والے پر کرم فرما سکتا ہے توان پر تیرے لطف وکرم کا اندازہ کون کرسکتا ہے جو''
سُبۡحٰنَ رَ بِّی الۡاَعۡلٰی
(پاکی بیان کرتا ہوں میں اپنے اونچے رب کی )''کہتے ہیں ،۔۔۔۔۔۔ اے اللہ عزوحل! میرے پاس اس کمبل کے سوا کچھ نہیں لیکن اگر یہ بھی کوئی طلب کرے تو میں تیری خاطر دینے کے لئے تیار ہوں ،۔۔۔۔۔۔ اے اللہ عزوجل!تیرا ہی ارشاد ہے کہ نیکی کرنے والوں کو نیکی کی وجہ سے بہتر صلہ دیا جاتا ہے ، میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں جس سے افضل دنیا میں کوئی نہیں ہے ،لہذا! اس کے صلے میں مجھے اپنے دیدار سے نواز دے ،۔۔۔۔۔۔ اے اللہ عزوجل! چونکہ تو گناہوں کو بخشنے والا ہے اور میں گناہ گار ہوں ، اس لئے تجھ سے بخشش کا سوالی ہوں ،۔۔۔۔۔۔اے اللہ عزوجل! تیری غفاری اور اپنی کمزوری کی بناء پر معصیت کا ارتکاب کر بیٹھتا ہوں ،اس لئے اپنی غفاری یا میری کمزوری کے پیش ِ نظر مجھے بخش دے ،۔۔۔۔۔۔ اے اللہ عزوحل! جب میدانِ محشر میں مجھ سے پوچھا جائے گا کہ دنیا سے کیا لایا؟ تو میرے پاس کوئی جواب نہ ہوگا ۔''
(تذکرۃ الاولیاء )