(105) (آپ اسے مار ڈالیں گے۔۔۔۔۔۔ )
حضرت سَیِّدُنا فضیل بن عیاض رضي اللہ تعالي عنہ کو جب یہ علم ہوتا کہ ان کا بیٹا بھی ان کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے تو خوف وغم کی آیات تلاوت نہ کرتے ۔ ایک مرتبہ انہوں نے سمجھا کہ وہ ان کے پیچھے نہیں ہے اور یہ آیت پڑھی
قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیۡنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ لوگ تھے ۔(ترجمہ کنزالایمان ۔پ۱۸،المؤمنون ۱۰۶)
تو ان کا بیٹا یہ آیت سن کر بے ہوش کر گرگیا ۔ جب آپ کو اس کا اندازہ ہوا تو تلاوت مختصر کردی ۔ جب ان کی ماں کو یہ ساری بات معلوم ہوئی تو انہوں نے آکر اپنے بیٹے کے چہرے پر پانی چھڑکا اور اسے ہوش میں لائیں ۔ انہوں نے حضرت فضیل رضي اللہ تعالي عنہ سے عرض کی ،اس طرح تو آپ اسے مار ڈالیں گے ....''ایک مرتبہ پھر ایسا ہی اتفاق ہوا کہ آپ نے یہ آیت تلاوت کی ،
وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللہِ مَا لَمْ یَکُوۡنُوۡا یَحْتَسِبُوۡنَ ﴿۴۷﴾