Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
107 - 161
    پھر وہ نوجوان زرد چہرے اور شکستہ دل کے ساتھ اپنی ماں کے پاس پہنچا اور کہنے لگا،''امی جان!بھاگا ہوا غلام جب پکڑا جائے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ؟''ماں نے جواب دیاکہ،''اسے کھردرا لباس، سوکھی روٹی دی جاتی ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے جاتے ہیں۔''اس نے عرض کی ،''آپ میرے ساتھ وہی سلوک کریں جو بھاگے ہوئے غلام کے ساتھ کیا جاتا ہے، شاید کہ میری اس ذلت کو دیکھ کر میرا مالک مجھے معاف فرما دے۔'' اس کی ماں نے اس کی یہ خواہش پوری کر دی ۔جب رات ہوتی تو یہ روتا اور آہ وزاری شروع کر دیتا اور کہتا،''اے دینار !تو ہلاک ہوجائے! کیا تجھے اپنے آپ پر قابو نہیں ہے ،تو کس طرح اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچ سکے گا؟''یہاں تک کہ صبح ہو جاتی۔ ایک رات اس کی ماں نے کہا،''بیٹا ! اپنے آپ پر ترس کھاؤ اور اتنی مشقت مت اٹھاؤ۔''اس نے جواب دیا،''مجھے اسی حال پر رہنے دیں، تھوڑی سی مشقت کے بعد شاید مجھے طویل آرام نصیب ہوجائے ، امی جان! میری نافرمانیوں کی ایک طویل فہرست رب تعالیٰ کے سامنے موجود ہے اور میں نہیں جانتا کہ مجھے مقامِ رحمت میں جانے کا حکم ہوگا یا وادیئ ہلاکت میں ڈال دیا جاؤں گا؟ مجھے اس تکلیف کا خوف ہے جس کے بعد کوئی راحت نہیں ملے گی ، مجھے ایسی سزا کا ڈر ہے جس کے بعد بھی معافی نہیں ملے گی۔'' ماں نے یہ سن کر کہا ،''اچھا ! تھوڑا سا تو آرام کر لو۔'' وہ کہنے لگا ،''میں کیسے آرام کر سکتا ہوں کیا آپ میری مغفرت کی ضمانت دیتی ہیں؟ کون میری بخشش کی ضمانت دے گا ؟ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے! ایسا نہ ہو کہ کل لوگ جنت کی جانب جارہے ہوں اور میں جہنم کی طرف۔۔۔۔۔۔۔''

    ایک مرتبہ اس کی ماں اس کے قریب سے گزری تو اس نے یہ آیت پڑھی ،