Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
106 - 161
لگے۔ آخر کار لڑکی نے اس نوجوان کو کسی قاصد کے ذریعے یہ پیغام بھجوایا کہ،''مجھے تمہاری حالت کا اندازہ ہے اور خود میری حالت بھی تم سے مختلف نہیں ہے ، اب یاتو تم میرے پاس چلے آؤ یا پھر میں تمہارے پاس آجاؤں ؟'' اس نوجوان نے پیغام لانے والے کو جواب دیاکہ،''یہ دونوں باتیں ممکن نہیں ،کیونکہ مجھے خوف ہے کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کرکے بڑی گھبراہٹ (یعنی قیامت)کے دن عذاب میں مبتلاء ہوجاؤں ،اور میں اُس آگ سے ڈرتا ہوں جس کے شعلے کبھی ٹھنڈے نہیں پڑتے۔''جب قاصد نے جاکر یہ ساری بات اس لڑکی کو بتائی تو وہ کہنے لگی ،''اتنی شدت سے چاہنے کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور وہ ڈرنے کا حق دار بھی ہے اور بندے اس معاملے میں برابر ہیں ۔'' پھر وہ لڑکی بھی دنیا سے کنارہ کش ہو کر عبادت میں مشغول ہو گئی یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا ۔
 (کتاب التوابین ، ص۲۶۷ )
 (98)          ( بوسیدہ ہڈیوں کی نصیحت۔۔۔۔۔۔ )
    ایک شخص جسے دینار''عیار''کہا جاتا تھا ، اس کی ماں اسے بری حرکتوں سے منع کرتی لیکن وہ باز نہ آتا تھا۔ ایک دن اس کا گزرایک قبرستان سے ہوا جہاں بہت سی بوسیدہ ہڈیاں بکھری پڑی تھیں ۔ اس نے آگے بڑھ کر ایک ہڈی اٹھائی تو وہ اس کے ہاتھ میں بکھر گئی ۔ یہ دیکھ کر وہ سوچ میں پڑ گیا اور خود سے کہنے لگا ،''تیری ہلاکت ہو! ایک دن تُو بھی ان میں شامل ہوجائے گا اور تیری ہڈیاں بھی اسی طرح بوسیدہ ہوجائیں گی جبکہ جسم مٹی میں مل جائے گا ، اس کے باوجود تُو گناہوں میں مشغول ہے؟''اس کے بعد اس نے توبہ کی اور کہنے لگا،''اے میرے رب عزوجل! میں خود کو تیری بارگاہ میں پیش کرتا ہوں ، مجھ پر رحم کر اور مجھے قبول فرما لے۔''
Flag Counter