Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
105 - 161
کسی نبی کا قاصد تھا ۔اس مردِ قاصد نے پوچھا،اے جوان کیا حال ہے؟''قصاب نے جواب دیا،''پیاس سے نڈھال ہوں ۔''قاصد نے کہا کہ'' آؤ ہم دونوں مل کر خدا سے دعا کریں تاکہ اللہ تعالیٰ ابر کے فرشتے کو بھیج دے اور وہ شہر پہنچنے تک ہم پر اپنا سایہ کئے رکھے ۔''نوجوان نے کہا کہ''میں نے تو خدا کی کوئی قابلِ ذکر عبادت بھی نہیں کی ہے ،میں کس طرح دعا کروں؟تم دعا کرو میں آمین کہوں گا۔''اس شخص نے دعا کی ، بادل کا ایک ٹکڑا ان کے سروں پر سایہ فگن ہو گیا ۔

    جب یہ دونوں راستہ طے کرتے ہوئے ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو وہ بادل قصاب کے سر پر آ گیا اور قاصد دھوپ میں ہو گیا ۔قاصد نے کہا،''اے جوان!تو نے تو کہا تھا کہ تو نے اللہ عزوحل کی کچھ بھی عبادت نہیں کی ،پھر یہ بادل تیرے سر پر کس طرح سایہ فگن ہو گیا؟تو مجھے اپنا حال سنا۔''نوجوان نے کہا ،''اور تو مجھے کچھ معلوم نہیں لیکن ایک کنیز سے خوفِ خدا کی بات سن کر میں نے توبہ ضرور کی تھی ۔''قاصد بولا،''تو نے سچ کہا،اللہ تعالیٰ کے حضور میں جو مرتبہ و درجہ تائب(توبہ کرنے والے) کا ہے وہ کسی دوسرے کا نہیں ہے۔''
 (کتاب التوابین ، ص۷۵ )
 (97)     (مجھے اپنے رب تعالیٰ کا خوف ہے۔۔۔۔۔۔ )
    کوفہ میں ایک خوبصورت نوجوان بہت زیادہ عبادت وریاضت کیا کرتا تھا ۔ ''نخع'' علاقے کے کچھ لوگ اس کے پڑوس میں آکر رہنے لگے ۔ ایک دن اچانک اس کی نگاہ ان کی لڑکی پر پڑ گئی اور یہ دل ودماغ ہار بیٹھا اور وہ لڑکی بھی اس پر فریفتہ ہوگئی ۔ اس نوجوان نے لڑکی کے باپ کو پیغامِ نکاح بھیجا تو اس نے بتایا کہ اس لڑکی کی منگنی اپنے چچا زاد کے ساتھ ہو چکی ہے ۔ اس انکار کے باوجود یہ دونوں بے حد بے چین رہنے
Flag Counter