Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
104 - 161
رحم کھا کر اسے اندر بلا لیا ۔وہ عابد سے کچھ فاصلے پر جا کر لیٹ گئی اور اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش شروع کر دی۔یہاں تک کہ عابد کا دل بھی اس کی طرف مائل ہو گیا ۔

    لیکن اسی لمحہ اللہ عزوجل کے خوف نے اس کے دل میں جوش مارا،عابدنے خود کو مخاطب کر کے کہا ،''واللہ !ایسا نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ تو دیکھ لے کہ آگ پر کتنا صبر کرسکتا ہے۔''پھر وہ چراغ کے پاس گیا اور اپنی ایک انگلی اس کے شعلے میں رکھ دی ،حتی کہ وہ جل کر کوئلہ ہو گئی ۔پھر اس نے نماز کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش کی لیکن اس کے نفس نے دوبارہ فاحشہ کی طرف بڑھنے کا مشورہ دیا۔یہ چراغ کے پاس گیا اور اپنی دوسری انگلی بھی جلا ڈالی،پھر اس کا نفس اسی طرح خواہش کرتا رہا اور وہ اپنی انگلیاں جلاتا رہا ،حتی کہ اس نے اپنی ساری انگلیاں جلا ڈالیں،عورت یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی،چنانچہ خوف و دہشت کے باعث اس نے ایک چیخ ماری اور مر گئی۔
(ذم الھوٰی،ص۱۹۹)
 (96)          ( بادل سایہ فگن ہوگیا۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت شیخ ابو بکر بن عبد اللہ حزنی رضي اللہ تعالي عنہ کہتے ہیں کہ ایک قصاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عاشق تھا ۔ایک دن وہ لونڈی کسی کام سے دوسرے گاؤں کو جا رہی تھی ، قصاب نے موقع غنیمت جان کر اس کا پیچھاکیا اور کچھ دور جا کر اسے پکڑ لیا ۔ تب کنیز نے کہا کہ''اے نوجوان!میرا دل بھی تیری طرف مائل ہے لیکن میں اپنے رب عزوجل سے ڈرتی ہوں۔''جب اس قصاب نے یہ سنا تو بولا،''جب تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتی ہے تو کیا میں اس ذاتِ پاک سے نہ ڈروں ؟''یہ کہہ کر اس نے توبہ کر لی اور وہاں سے پلٹ پڑا۔راستے میں پیاس کے مارے دم لبوں پر آ گیا ۔اتفاقاً اس کی ملاقات ایک شخص سے ہو گئی جو کہ
Flag Counter