حضرت سَیِّدُنا حسن بصری رضي اللہ تعالي عنہ فرماتے ہیں کہ''ایک فاحشہ عورت کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ دنیا کا تہائی حسن اس کے پاس ہے۔وہ اپنا آپ کسی کو سونپنے کا معاوضہ سو دینار لیتی تھی۔ایک مرتبہ ایک عابد کی نگاہ اس پر پڑ گئی ،اور وہ اس کا قُرب پانے کے لئے بے چین ہو کر سو دینار جمع کرنے میں مشغول ہو گیا ۔جب مطلوبہ رقم پوری ہو گئی تو وہ اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ''تیرے حسن نے مجھے دیوانہ کر دیا ہے ،میں نے تجھے حاصل کرنے کے لئے اپنے ہاتھ کی محنت سے یہ سو دینار جمع کئے ہیں۔'' اس فاحشہ نے کہا ''یہ میرے وکیل کو دے دو ،تاکہ وہ پرکھ لے۔''جب وکیل نے دینار پرکھ لئے تو اس نے عابد کو اندر آنےکی اجازت دے دی ۔
جب وہ گناہ کے لئے فاحشہ کے نزدیک بیٹھا ،تو اس پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیشی کا خوف غالب آگیا اور وہ تھر تھر کانپنے لگا اور اس کی شہوت جاتی رہی۔اس نے فاحشہ سے کہا ،''مجھے چھوڑ دے میں واپس جانا چاہتا ہوں ،اور یہ سو دینار بھی تو ہی رکھ لے۔''عورت نے کہا،''یہ کیا؟میں تجھے پسند آئی،تو نے اتنی محنت سے یہ دینار جمع کئے اور اب جبکہ تیری خواہش پوری ہونے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی، تو واپس جانا چاہتا ہے؟''عابد نے کہا،''میں اپنے رب عزوجل کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا ہوں ،اس لئے میرا تمام عیش ہوا ہو گیا ہے ۔''
وہ طوائف یہ بات سن کر بہت متأثر ہوئی،چنانچہ اس نے کہا کہ''اگر واقعی یہ بات ہے تو میرا خاوند تیرے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔''عابد نے کہا ''مجھے چھوڑ دے،