Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
100 - 161
ساتھ سفر پر روانہ ہوئی تو یہ آدمی بھی اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ جب جنگل میں پہنچ کر سب لوگ سو گئے تو اس آدمی نے اس عورت سے اپنا حالِ دل بیان کیا ۔ عورت نے اس سے پوچھا،''کیا سب لوگ سو گئے ہیں؟'' یہ دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ شاید یہ عورت بھی میری طرف مائل ہو گئی ہے چنانچہ وہ اٹھا اور قافلے کے گرد گھوم کر جائزہ لیا تو سب لوگ سورہے تھے ۔ واپس آکر اس نے عورت کو بتایا کہ ،''ہاں! سب لوگ سو گئے ہیں۔'' یہ سن کر وہ عورت کہنے لگی ،''اللہ تعالیٰ کے بارے میں تم کیا کہتے ہو،کیا وہ بھی اس وقت سو رہا ہے؟''مرد نے جواب دیا ،''اللہ تعالیٰ نہ سوتا ہے ،نہ اسے نیند آتی ہے اور نہ اسے اونگھ آتی ہے ۔'' عورت نے کہا ،''جو نہ کبھی سویا اور نہ سوئے گا ، اوروہ ہمیں بھی دیکھ رہاہے اگرچہ لوگ نہیں دیکھ رہے تو ہمیں اس سے زیادہ ڈرنا چاہے۔'' یہ بات سن کر اس آدمی نے رب تعالیٰ کے خوف کے سبب اس عورت کو چھوڑ دیا اور گناہ کے ارادے سے باز آگیا۔

    جب اس شخص کا انتقال ہوا تو کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا ،
''مَافَعَلَ اللہُ بِکَ؟
یعنی اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟'' تو اس نے جواب دیا ،''اللہ تعالیٰ نے مجھے ترکِ گناہ اور اپنے خوف کے سبب بخش دیا۔''
 (مکاشفۃ القلوب ،ص۱۱)
 (93)         ( تمام گناہوں کی مغفرت ہوگئی۔۔۔۔۔۔ )
    بنی اسرائیل میں ایک عیال دار شخص نہایت عبادت گزار تھا ۔ اس پر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ اپنے اہل وعیال سمیت فاقے میں مبتلاء ہوگیا۔ایک دن اس نے مجبور ہو کر اپنی بیوی کو بچوں کے لئے کچھ لانے کے لئے باہر بھیجا۔ اس کی بیوی ایک تاجر کے دروازے پر پہنچی اور اس سے سوال کیا تاکہ بچوں کو کھانا کھلائے ۔ اس تاجر نے کہا ،
Flag Counter