ساتھ سفر پر روانہ ہوئی تو یہ آدمی بھی اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ جب جنگل میں پہنچ کر سب لوگ سو گئے تو اس آدمی نے اس عورت سے اپنا حالِ دل بیان کیا ۔ عورت نے اس سے پوچھا،''کیا سب لوگ سو گئے ہیں؟'' یہ دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ شاید یہ عورت بھی میری طرف مائل ہو گئی ہے چنانچہ وہ اٹھا اور قافلے کے گرد گھوم کر جائزہ لیا تو سب لوگ سورہے تھے ۔ واپس آکر اس نے عورت کو بتایا کہ ،''ہاں! سب لوگ سو گئے ہیں۔'' یہ سن کر وہ عورت کہنے لگی ،''اللہ تعالیٰ کے بارے میں تم کیا کہتے ہو،کیا وہ بھی اس وقت سو رہا ہے؟''مرد نے جواب دیا ،''اللہ تعالیٰ نہ سوتا ہے ،نہ اسے نیند آتی ہے اور نہ اسے اونگھ آتی ہے ۔'' عورت نے کہا ،''جو نہ کبھی سویا اور نہ سوئے گا ، اوروہ ہمیں بھی دیکھ رہاہے اگرچہ لوگ نہیں دیکھ رہے تو ہمیں اس سے زیادہ ڈرنا چاہے۔'' یہ بات سن کر اس آدمی نے رب تعالیٰ کے خوف کے سبب اس عورت کو چھوڑ دیا اور گناہ کے ارادے سے باز آگیا۔
جب اس شخص کا انتقال ہوا تو کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا ،