Brailvi Books

خوف خدا عزوجل
99 - 161
    جب اس نے یہ آیت سنی تو اللہ تعالیٰ کے خوف سے تھر تھر کانپنے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی اور یہ پکار پکار کر کہنے لگا،''کیوں نہیں ؟ کیوں نہیں؟'' اور یہ کہتے ہوئے محل کے دروازے سے باہر نکل گیا ۔ اس دن سے ہمیں اس کے بارے میں کوئی خبر نہ ملی یہاں تک کہ آج تم نے اس کی وفات کی خبر دی ۔''
 (حکایات الصالحین،ص ۶۷)
 (91)     (مجھے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہیں۔۔۔۔۔۔ )
    حضرت علقمہ بن اسود رضي اللہ تعالي عنہ  فرماتے ہیں کہ میں سَیِّدُنا عامر بن قیس رضي اللہ تعالي عنہ سے زیادہ خشوع وخضوع اور انہماک کے ساتھ نماز ادا کرنے والا کوئی نہ پایا۔ اکثر ایسا ہوتا کہ شیطان ملعون ایک بہت بڑے اژدھے کی صورت اختیار کر کے مسجد میں گھس جاتا اور لوگ اس کے خوف سے ادھر ادھر دوڑنے لگتے بلکہ بعض تو مسجد ہی سے نکل بھاگتے۔ لیکن وہی سانپ جب حضرت عامر بن قیس رضي اللہ تعالي عنہ کی قمیض میں داخل ہوتا اور اپنا منہ گریبان سے باہر نکالتاتوآپ اس کی مطلقاً پرواہ نہ کرتے اور اسی طرح خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا کرنے میں مصروف رہتے ۔ ایک دن لوگوں نے آپ سے پوچھا ، ''حضور!کیا آپ کو اتنے بڑے سانپ سے خوف نہیں آتا ؟''آپ نے جواب دیا ، ''مجھے اللہ کے سوا کسی سے خوف نہیں آتا ۔'' سچ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں وہ اورکسی سے نہیں ڈرتے اور جو رب تعالیٰ سے نہیں ڈرتا وہ ہر ایک سے ڈرتا ہے ۔
 (حکایات الصالحین،ص۱۰۴)
 (92)         ( اپنے خوف کے سبب بخش دیا۔۔۔۔۔۔ )
    ایک شخص کسی عورت پر فریفتہ ہوگیا ۔جب وہ عورت کسی کام سے قافلے کے
Flag Counter