Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
94 - 96
بُتوں  سے مدد مانگنا شرک ہے
      مُفَسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان فرماتے ہیں: مُشرکین کا اپنے بتوں  سے مدد مانگنا یہ بالکل شرک ہے۔(اور یہ شرک ہونا) اس لئے کہ وہ ان بُتوں  میں  خُدائی اثر اور ان کو چَھوٹا خُدامان کرمدد مانگتے ہیں  اور اِسی لئے ان کو اِلٰہ یا شُرکاء (یعنی عبادت کے لائق یا اللہ کے شریک)کہتے ہیں  یعنی ان بُتوں  کو اللہ کا بندہ اور پھر اُلُوہِیَّت کا حصّے دار مانتے ہیں۔(جاء َالحق ص۱۷۱)
شِرک کی تعریف
	 شرک کا معنیٰ ہے: اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کسی کو واجِبُ الوُجُود یامستحقِ عبادت       ( عبادت کے لائق ) جاننا یعنیاُلُوہِیَّت میں  دوسرے کو شریک کرنا اور یہ کفر کی سب سے بد ترین قسم ہے۔ اس کے سوا کوئی بات کیسی ہی شدید کفر ہو حقیقۃً شرک نہیں۔ (بہارِ شریعت ج۱ ص۱۸۳) میرے آقااعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :’’آدَمی حقیقۃً کسی بات سے مُشرِک نہیں  ہوتا جب تک غیرِ خدا کو معبود(یعنی عبادت کے لائق) یا مستقل بالذّات ( یعنی اپنی ذات میں غیرمحتاج۔مثلاً یہ عقیدہ  رکھنا کہ اس کا علم ذاتی ہے)وواجبُ الوُجُود نہ جانے۔‘‘(فتاوٰی رضویہ ج ۲۱ص۱۳۱ ) شَرحِ عقائد میں