Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
93 - 96
تفصیلات کیلئے حضرت  مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان کی کتاب ’’علم القرآن ‘‘ کا مُطالعہ فرمایئے) 
اللہ کی عطا سے ہیں  مصطفٰے مددگار
ہیں  انبیاء مدد پر ہیں  اولیاء مددگار
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُوال(17):  مُشرِکِین بُتو ں سے اور آپ نبیوں  اورولیوں  سے مددمانگتے ہیں  ،کیا دونوں  شرک میں  برابر نہ ہوئے؟ 
 جواب:مَعاذاللہ(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی پناہ) دونوں  کا مُعامَلہ ہرگز ایک جیسانہیں ،مُشرِکین کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے  بُتوںکو اُلُوہِیَّت دے دی (یعنی معبودبنادیا)ہے ۔نیز وہ بتو ں  وغیرہ کو سفارشی اور وسیلہ سمجھتے ہیں  اور بُت فی الحقیقت ایسے نہیں  ہیں۔ اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّہم مسلمان کسی مُقَرّب سے مُقَرّب حتّٰی کہ محبوبِ رب ،تاجدارِعرب ،سراپا لائقِ تعظیم وادب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بھی اُلُوہِیَّت ( یعنی مستحقِ عبادت ہونے)کے قائل نہیں  ہیں ،ہم تو انبیاءِ کرامعَلَیْہمُ الصّٰلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عِظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ اور اعزازی طور پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِذن وعطا (یعنی اجازت وعنایت)سے شفیع و وسیلہ اورحاجت روا ومشکلکشامانتے ہیں۔