Brailvi Books

کراماتِ شیر خدا
92 - 96
شخص(قراٰن کریم ) غَلَط پڑھتا ہو تو سُننے والے پر (اِس اندازمیں  مدد کرنا ) واجب ہے کہ بتا دے، بشرطیکہ بتانے کی وجہ سے کینہ و حسد پیدا نہ ہو۔ اسی طرح اگر کسی کا مُصْحَف شریف (قراٰنِ پاک)اپنے پاس عارِیت(یعنی کچھ وقت کیلئے)ہے،اگر اس میں  کِتابت (لکھائی) کی غلطی دیکھے، بتا دینا(کہ یہ بھی ایک مددہی کی صورت ہے جوکہ) واجِب ہے۔        (ایضاً ص۵۵۳)
ہے انتظامِ دنیا امدادِ باہَمی سے
آجائے گی خرابی امداد کی کمی سے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُوال(16):  قراٰنِ کریم میں  ہے:وَلَا تَدْعُ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ (پ،۱۱یونس:۱۰۶) ترجمہ:’’ اللہ کے سوا ان کو نہ پکارو ۔‘‘ معلوم ہوا کہ غیرِ خدا کو پکارنا شرک ہے۔
 جواب: اس آیت میں  مِنۡ دُوۡنِ اللہِ(یعنی اللہ کے سِوا) کو پکارنے سے منع کیا گیا ہے یہاں  مراد بت ہیں  اور پکارنے سے مراد عبادت ہے۔ (تفسیرِطَبری ج۶ص ۶۱۸)اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاوپر بیان کردہ آیت کے حصّے کا ترجَمہ یوں  فرماتے ہیں :’’اور اللہ کے سِوا بندَگی نہ کر۔‘‘دوسری آیات اس معنٰی کی تائید کرتی ہیں  مَثَلاً اللہ تَعَالٰیفرماتا ہے:
وَلَا تَدْعُ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَۘ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۟(پ۲۰،القصص:۸۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہکے ساتھ دوسرے خدا کو نہ پوج اس کے سوا کوئی خدا نہیں  ۔
معلوم ہوا کہ غیرِ خدا کو خدا سمجھ کر پکارنا شرک ہے کیونکہ یہ غیر خدا کی عبادت ہے ۔( مزید